درد کو درد سے نسبت ہوگی
درد کو درد سے نسبت ہوگی
کیوں سوچیں کہ محبت ہوگی
جان کسی کو دی تھی تم نے
اب جو جئے تو ندامت ہوگی
تم سے مجھے کچھ کام نہیں ہے
تم کو میری ضرورت ہوگی
آؤ خدا کی بستی ہے یہ
کسی کھنڈر میں عبادت ہوگی
کٹیاؤں کا لٹیرا ہوگا
جس کی نئی عمارت ہوگی
بیٹھا ہوں پھر دیا جلائے
پروانوں کی ضیافت ہوگی
جسم کسی کا گرم نہیں ہے
راہیؔ تم کو حرارت ہوگی