درد کا گہرا سمندر اور میں
درد کا گہرا سمندر اور میں
زندگی کا سر پہ پتھر اور میں
اس طرف شیشے ہی شیشے اور وہ
اس طرف پتھر ہی پتھر اور میں
ہے یہی عہد جنوں کی یادگار
ایک کوچہ ایک پتھر اور میں
ٹوٹ جانے کو ہیں سب جام و سبو
ایک لغزش ایک ٹھوکر اور میں
بن گیا تاریخ کا خونیں ورق
پشت میں پیوست خنجر اور میں
یہ مثلث عہد کی تاریخ ہے
ایک قاتل ایک خنجر اور میں
یہ مثلث دیکھ کیا لاتا ہے رنگ
میرا سر میرا ہی پتھر اور میں