دراز قامت دراز گیسو عجیب سا اک نگار تھا وہ
دراز قامت دراز گیسو عجیب سا اک نگار تھا وہ
گلوں کی باگ اس کے ہاتھ میں تھی ہواؤں پر جب سوار تھا وہ
جنوں تھا بن کر لہو رگوں میں کہ رات دن دوڑتے تھے لمحے
تھکے نہ تھے وہ جو رک گئے تھے مرے لئے بیقرار تھا وہ
مرے خدا حسن کے دفینے کو مت خزانے کا مرتبہ دے
کہ پا کے جو اس کو خوش بہت تھا گنوا کے کل اشک بار تھا وہ
ابل پڑے نفرتوں کے سوتے کہ ہو گئی خشک جھیل غم کی
شکست خوردہ سا منہ چھپائے نہ جانے کس کا شکار تھا وہ
کبھی کبھی جو سنا گیا تھا کہیں کہیں جو پڑھا گیا تھا
کتاب میں بند ہو چکا ہے اک عمر کا شاہکار تھا وہ
وہ دوستوں دشمنوں کا پیارا پھرا تمام عمر مارا مارا
سنا ہے کل غم نے مار ڈالا کہ جس کا دیرینہ یار تھا وہ
عجیب راہی تھا ریگ زاروں میں پیاس لمحوں کی بو رہا تھا
مگر چٹانوں سے گر رہا تھا کہ شب میں اک آبشار تھا وہ