چند لمحوں میں غبار کارواں رہ جائے گا
چند لمحوں میں غبار کارواں رہ جائے گا
خاک ہو جاؤں گا میں جل کر دھواں رہ جائے گا
شمع محفل رقص بسمل کا نہ ہوگا کچھ وجود
انجمن میں گریۂ نوحہ گراں رہ جائے گا
کر کے ہجرت دور صحرا میں چلے جائیں گے لوگ
شہر میں جلتے مکانوں کا دھواں رہ جائے گا
ڈھانپ دے گا اپنی چادر سے مجھے گرد و غبار
میرے نقش پا کا دھندلا سا نشاں رہ جائے گا
منبر و محراب ہو جائیں گے سونے ایک روز
گنبد و مینار پر شور اذاں رہ جائے گا