بارہا ہو کے گئے ابر بہاراں خالی
بارہا ہو کے گئے ابر بہاراں خالی
دشت میں پھول کھلے اور گلستاں خالی
اب تو خلوت کدۂ عالم امکاں سے نکل
اب یہاں کوئی نہیں عشق کا عنواں خالی
پھر کسی جنت گم گشتہ کو دیکھا اس نے
جسم پھر چھوڑ چلا جسم کا زنداں خالی
وادیٔ زیست میں دل ڈھونڈھتا ہے نور کا رنگ
چار سو گھورتی ہے چشم پریشاں خالی
اے صبا اب تو یہاں کوئی نیا پھول کھلا
ایک مدت سے ہے دامان غزل خواں خالی