Sher Singh Naaz Dehlvi

شیر سنگھ ناز دہلوی

شیر سنگھ ناز دہلوی کی غزل

    کیا خبر تھی کوئی رسوائے جہاں ہو جائے گا

    کیا خبر تھی کوئی رسوائے جہاں ہو جائے گا کچھ نہ کہنا بھی مرا حسن بیاں ہو جائے گا اپنے دیوانے کا تم جوش جنوں بڑھنے تو دو آستیں دامن گریباں دھجیاں ہو جائے گا عاشق جانباز ہیں ہم منہ نہ موڑیں گے کبھی تم کماں سے تیر چھوڑو امتحاں ہو جائے گا ٹوٹی پھوٹی قبر بھی کر دو برابر شوق سے یہ بھی ...

    مزید پڑھیے

    زندگی نام ہے جس چیز کا کیا ہوتی ہے

    زندگی نام ہے جس چیز کا کیا ہوتی ہے چلتی پھرتی یہ زمانے کی ہوا ہوتی ہے سیر دنیا کی نہ کچھ یاد خدا ہوتی ہے عمر انہیں جھگڑوں میں تاراج فنا ہوتی ہے روح جب قالب خاکی سے جدا ہوتی ہے کس کو معلوم کہاں جاتی ہے کیا ہوتی ہے فکر دنیا سے سوا ہو جسے عقبیٰ کا خیال وہ طبیعت ہی زمانے سے جدا ہوتی ...

    مزید پڑھیے

    کثرت وحدانیت میں حسن کی تنویر دیکھ

    کثرت وحدانیت میں حسن کی تنویر دیکھ دیدۂ حق بیں سے رنگ عالم تصویر دیکھ اس قدر کھنچنا نہیں اچھا بت بے پیر دیکھ پیار کی نظروں سے سوئے عاشق دلگیر دیکھ غیر نے مجھ پر ستم ڈھائے ہیں ڈھالے آج تو رہ نہ جائے کوئی بھی ترکش میں باقی تیر دیکھ کام بن بن کر بگڑ جاتے ہیں لاکھوں رات دن کس قدر ہے ...

    مزید پڑھیے

    حجاب راز فیض مرشد کامل سے اٹھتا ہے

    حجاب راز فیض مرشد کامل سے اٹھتا ہے نظر حق آشنا ہوتی ہے پردہ دل سے اٹھتا ہے جلا جاتا ہوں بار سوز غم مشکل سے اٹھتا ہے وہ اشکوں سے نہیں بجھتا جو شعلہ دل سے اٹھتا ہے کہاں خنجر بھی دست ناوک قاتل سے اٹھتا ہے نزاکت سے حنا کا بار بھی مشکل سے اٹھتا ہے یہ کس نے ڈال دی بحر تلاطم خیز میں ...

    مزید پڑھیے

    باتوں میں ڈھونڈتے ہیں وہ پہلو ملال کا

    باتوں میں ڈھونڈتے ہیں وہ پہلو ملال کا مطلب یہ ہے کہ ذکر نہ آئے وصال کا کیا ذکر ان سے کیجیے دل کے ملال کا ہے خامشی جواب مرے ہر سوال کا تا عمر پھر نہ طالب جلوہ ہوئے کلیم دیکھا جو ایک بار کرشمہ جمال کا رخ پر پڑی ہوئی ہے نقاب شعاع حسن موقع نظر کو خاک ملے دیکھ بھال کا ہم نا مراد عشق ...

    مزید پڑھیے

    وہ حد سے دور ہوتے جا رہے ہیں

    وہ حد سے دور ہوتے جا رہے ہیں بڑے مغرور ہوتے جا رہے ہیں بسے ہیں جب سے وہ میری نظر میں سراپا نور ہوتے جا رہے ہیں جو پھوٹے آبلے دل کی خلش سے وہ اب ناسور ہوتے جا رہے ہیں بہت مشکل ہے منزل تک رسائی وہ کوسوں دور ہوتے جا رہے ہیں کہاں پہلی سی راہ و رسم الفت نئے دستور ہوتے جا رہے ...

    مزید پڑھیے

    شب فراق جو دل میں خیال یار رہا

    شب فراق جو دل میں خیال یار رہا پس فنا بھی تصور میں انتظار رہا اڑا رہے ہیں مری خاک کو وہ ٹھوکر سے الٰہی مجھ سے تو اچھا مرا غبار رہا نظر ملاتے ہی ہاتھوں سے دل چلا میرا کسی کو دیکھ کے دل پر نہ اختیار رہا کسی کی نرگس مستانہ پھر گئی جب سے نہ وہ سرور نہ آنکھوں میں وہ خمار رہا شب فراق ...

    مزید پڑھیے

    وہ جھنکار پیدا ہے تار نفس میں

    وہ جھنکار پیدا ہے تار نفس میں کہ ہے نغمہ نغمہ مری دسترس میں تصور بہاروں میں ڈوبا ہوا ہے چمن کا مزہ مل رہا ہے قفس میں گلوں میں یہ سرگوشیاں کس لیے ہیں ابھی اور رہنا پڑے گا قفس میں نہ جینا ہے جینا نہ مرنا ہے مرنا نرالی ہیں سب سے محبت کی رسمیں نہ دیکھی کبھی ہم نے گلشن کی صورت ترستے ...

    مزید پڑھیے

    کچھ اشارے وہ سر بزم جو کر جاتے ہیں

    کچھ اشارے وہ سر بزم جو کر جاتے ہیں ناوک ناز کلیجے میں اتر جاتے ہیں اہل دل راہ عدم سے بھی گزر جاتے ہیں نام لیوا ترے بے خوف و خطر جاتے ہیں سفر زیست ہوا ختم نہ سوچا لیکن ہم کو جانا ہے کہاں اور کدھر جاتے ہیں نگہ لطف میں ہے عقدہ کشائی مضمر کام بگڑے ہوئے بندوں کے سنور جاتے ہیں قابل ...

    مزید پڑھیے

    قلزم الفت میں وہ طوفان کا عالم ہوا

    قلزم الفت میں وہ طوفان کا عالم ہوا جو سفینہ دل کا تھا درہم ہوا برہم ہوا تھامنا مشکل دل مضطر کو شام غم ہوا یاد آتے ہی کسی کی حشر کا عالم ہوا کیا بتائیں کس طرح گزری شب وعدہ مری منتظر آنکھیں رہیں دل کا عجب عالم ہوا دیکھتے رہتے ہیں اس میں سارے عالم کا ظہور آئینہ دل کا ہمارے رشک جام ...

    مزید پڑھیے
صفحہ 1 سے 2