Sher Singh Naaz Dehlvi

شیر سنگھ ناز دہلوی

شیر سنگھ ناز دہلوی کی غزل

    وہ جب تک انجمن میں جلوہ فرمانے نہیں آتے

    وہ جب تک انجمن میں جلوہ فرمانے نہیں آتے صراحی رقص میں گردش میں پیمانے نہیں آتے شریک درد بن کر اپنے بیگانے نہیں آتے مئے عشرت جو پیتے ہیں وہ غم کھانے نہیں آتے لپٹ کر شمع کی لو سے لگی دل کی بجھاتے ہیں پرائی آگ میں جلنے کو پروانے نہیں آتے اڑاتے ہی پھریں گے عمر بھر وہ خاک صحرا کی تری ...

    مزید پڑھیے

    زلف جاناں پہ طبیعت مری لہرائی ہے

    زلف جاناں پہ طبیعت مری لہرائی ہے سانپ کے منہ میں مجھے میری قضا لائی ہے آج مے خانے پہ گھنگھور گھٹا چھائی ہے ایک دنیا ہے کہ پینے کو امڈ آئی ہے زلف شب رنگ کا ہے عکس یہ پیمانے میں یا پری کوئی یہ شیشے میں اتر آئی ہے تو بتا ناوک جاناں تری کیا ہے نیت خنجر یار نے تو سر کی قسم کھائی ...

    مزید پڑھیے

    دم اخیر بھی ہم نے زباں سے کچھ نہ کہا

    دم اخیر بھی ہم نے زباں سے کچھ نہ کہا جہاں سے اٹھ گئے اہل جہاں سے کچھ نہ کہا چلی جو کشتئ عمر رواں تو چلنے دی رکی تو کشتئ عمر رواں سے کچھ نہ کہا خطائے عشق کی اتنی سزا ہی کافی تھی بدل کے رہ گئے تیور زباں سے کچھ نہ کہا بلا سے خاک ہوا جل کے آشیاں اپنا تڑپ کے رہ گئے برق تپاں سے کچھ نہ ...

    مزید پڑھیے

    دل دیا ہے ہم نے بھی وہ ماہ کامل دیکھ کر

    دل دیا ہے ہم نے بھی وہ ماہ کامل دیکھ کر زرد ہو جاتی ہے جس کو شمع محفل دیکھ کر تیرے عارض پہ یہ نقطہ بھی ہے کتنا انتخاب ہو گیا روشن ترے رخسار کا تل دیکھ کر قتل کرنا بے گناہوں کا کوئی آسان ہے خشک قاتل کا لہو ہے خون بسمل دیکھ کر بلیوں فرط مسرت سے اچھل جاتا ہے دل بحر غم میں دور سے ...

    مزید پڑھیے
صفحہ 2 سے 2