Sher Singh Naaz Dehlvi

شیر سنگھ ناز دہلوی

شیر سنگھ ناز دہلوی کے تمام مواد

14 غزل (Ghazal)

    کیا خبر تھی کوئی رسوائے جہاں ہو جائے گا

    کیا خبر تھی کوئی رسوائے جہاں ہو جائے گا کچھ نہ کہنا بھی مرا حسن بیاں ہو جائے گا اپنے دیوانے کا تم جوش جنوں بڑھنے تو دو آستیں دامن گریباں دھجیاں ہو جائے گا عاشق جانباز ہیں ہم منہ نہ موڑیں گے کبھی تم کماں سے تیر چھوڑو امتحاں ہو جائے گا ٹوٹی پھوٹی قبر بھی کر دو برابر شوق سے یہ بھی ...

    مزید پڑھیے

    زندگی نام ہے جس چیز کا کیا ہوتی ہے

    زندگی نام ہے جس چیز کا کیا ہوتی ہے چلتی پھرتی یہ زمانے کی ہوا ہوتی ہے سیر دنیا کی نہ کچھ یاد خدا ہوتی ہے عمر انہیں جھگڑوں میں تاراج فنا ہوتی ہے روح جب قالب خاکی سے جدا ہوتی ہے کس کو معلوم کہاں جاتی ہے کیا ہوتی ہے فکر دنیا سے سوا ہو جسے عقبیٰ کا خیال وہ طبیعت ہی زمانے سے جدا ہوتی ...

    مزید پڑھیے

    کثرت وحدانیت میں حسن کی تنویر دیکھ

    کثرت وحدانیت میں حسن کی تنویر دیکھ دیدۂ حق بیں سے رنگ عالم تصویر دیکھ اس قدر کھنچنا نہیں اچھا بت بے پیر دیکھ پیار کی نظروں سے سوئے عاشق دلگیر دیکھ غیر نے مجھ پر ستم ڈھائے ہیں ڈھالے آج تو رہ نہ جائے کوئی بھی ترکش میں باقی تیر دیکھ کام بن بن کر بگڑ جاتے ہیں لاکھوں رات دن کس قدر ہے ...

    مزید پڑھیے

    حجاب راز فیض مرشد کامل سے اٹھتا ہے

    حجاب راز فیض مرشد کامل سے اٹھتا ہے نظر حق آشنا ہوتی ہے پردہ دل سے اٹھتا ہے جلا جاتا ہوں بار سوز غم مشکل سے اٹھتا ہے وہ اشکوں سے نہیں بجھتا جو شعلہ دل سے اٹھتا ہے کہاں خنجر بھی دست ناوک قاتل سے اٹھتا ہے نزاکت سے حنا کا بار بھی مشکل سے اٹھتا ہے یہ کس نے ڈال دی بحر تلاطم خیز میں ...

    مزید پڑھیے

    باتوں میں ڈھونڈتے ہیں وہ پہلو ملال کا

    باتوں میں ڈھونڈتے ہیں وہ پہلو ملال کا مطلب یہ ہے کہ ذکر نہ آئے وصال کا کیا ذکر ان سے کیجیے دل کے ملال کا ہے خامشی جواب مرے ہر سوال کا تا عمر پھر نہ طالب جلوہ ہوئے کلیم دیکھا جو ایک بار کرشمہ جمال کا رخ پر پڑی ہوئی ہے نقاب شعاع حسن موقع نظر کو خاک ملے دیکھ بھال کا ہم نا مراد عشق ...

    مزید پڑھیے

تمام