ہے بد بلا کسی کو غم جاوداں نہ ہو
ہے بد بلا کسی کو غم جاوداں نہ ہو یا ہم نہ ہوں جہاں میں خدا یا جہاں نہ ہو آئین اہل عشق کہاں اور ہم کہاں اے آہ شعلہ بار نہ ہو خوں چکاں نہ ہو فعل حکیم عین صلاح و صواب ہے ساقی اگر شراب نہ دے سرگراں نہ ہو تدبیر ترک دشمن جاں کی ہے رات دن کس طرح پھر مجھے گلۂ دوستاں نہ ہو کیا وہ متاع جس کی ...