Shefta Mustafa Khan

مصطفیٰ خاں شیفتہ

مصطفیٰ خاں شیفتہ کی غزل

    عشق کی میرے جو شہرت ہو گئی

    عشق کی میرے جو شہرت ہو گئی یار سے مجھ کو ندامت ہو گئی خاک عرض مدعا اس سے کروں جس کو باتوں میں کدورت ہو گئی یاں سے جانے کو ہیں وہ آچک کہیں کیا بلا اے ابر رحمت ہو گئی اب ستم اغیار پر کرنے لگے میرے مر جانے سے عبرت ہو گئی جلوۂ معنی نظر آنے لگا پیتے پیتے مے یہ صورت ہو گئی ان کی باتیں ...

    مزید پڑھیے

    کچھ درد ہے مطربوں کی لے میں

    کچھ درد ہے مطربوں کی لے میں کچھ آگ بھری ہوئی ہے نے میں کچھ زہر اگل رہی ہے بلبل کچھ زہر ملا ہوا ہے مے میں بد مست جہان ہو رہا ہے ہے یار کی بو ہر ایک شے میں ہے مستیٔ نیم خام کا ڈر اصرار ہے جام پے بہ پے میں مے خانہ نشیں قدم نہ رکھیں بزم جم و بارگاہ کے میں اب تک زندہ ہے نام واں کا گزرا ...

    مزید پڑھیے

    ادھر مائل کہاں وہ مہ جبیں ہے

    ادھر مائل کہاں وہ مہ جبیں ہے فلک کو مجھ سے کیوں پرخاش و کیں ہے نہ دیکھا اپنے بسمل کا تماشا قریب آ کر وہ کتنا دوربیں ہے یہ اچھا ہے تو اچھا غیر کو بھی ستاؤ اور پوچھو کیوں غمیں ہے ہمیں صورت دکھائے کیا تمنا کہ عاشق جس کے ہیں پردہ نشیں ہے یہ مجھ سے شکوہ ہے اللہ رے شوخی کہ میرے غم سے ...

    مزید پڑھیے

    تھا غیر کا جو رنج جدائی تمام شب

    تھا غیر کا جو رنج جدائی تمام شب نیند ان کو میرے ساتھ نہ آئی تمام شب شکوہ مجھے نہ ہو جو مکافات حد سے ہو واں صلح ایک دم ہے لڑائی تمام شب یہ ڈر رہا کہ سوتے نہ پائیں کہیں مجھے وعدے کی رات نیند نہ آئی تمام شب سچ تو یہ ہے کہ بول گئے اکثر اہل شوق بلبل نے کی جو نالہ سرائی تمام شب دم بھر ...

    مزید پڑھیے

    مر گئے ہیں جو ہجر یار میں ہم

    مر گئے ہیں جو ہجر یار میں ہم سخت بیتاب ہیں مزار میں ہم oppressed, in parting from my love, I died so restless in my grave I now reside تا دل کینہ ور میں پائیں جگہ خاک ہو کر ملے غبار میں ہم to find place in her heart full of mistrust I grind myself into misgiving's dust وہ تو سو بار اختیار میں آئے پر نہیں اپنے اختیار میں ہم a hundred times, she came within my clasp, but ...

    مزید پڑھیے

    کہوں میں کیا کہ کیا درد نہاں ہے

    کہوں میں کیا کہ کیا درد نہاں ہے تمہارے پوچھنے ہی سے عیاں ہے شکایت کی بھی اب طاقت کہاں ہے نگاہ حسرت آہ ناتواں ہے نشان پائے غیر اس آستاں پر نہیں ہے میرے مرقد کا نشاں ہے اجل نے کی ہے کس دم مہربانی کہ جب پہلو میں وہ نامہرباں ہے تجھے بھی مل گیا ہے کوئی تجھ سا اب آئینے سے وہ صحبت کہاں ...

    مزید پڑھیے

    کون سے دن تری یاد اے بت سفاک نہیں

    کون سے دن تری یاد اے بت سفاک نہیں کون سی شب ہے کہ خنجر سے جگر چاک نہیں لطف قاتل میں تامل نہیں پر کیا کیجے سر شوریدہ مرا قابل فتراک نہیں تجھ پر اے دلبر عالم جو ہر اک مرتا ہے اس لیے مرنے سے میرے کوئی غم ناک نہیں دل ہوا پاک تو پھر کون نظر کرتا ہے اور دل پاک نہیں ہے تو نظر پاک ...

    مزید پڑھیے

    تنگ تھی جا خاطر ناشاد میں

    تنگ تھی جا خاطر ناشاد میں آپ کو بھولے ہم ان کی یاد میں my heart, because of sorrow was constricted and upset in thoughts of her, even myself, I managed to forget کیونکر اٹھتا ہے خدا رنج قفس مر گئے ہم تو کف صیاد میں How can I Lord, the suffering of imprisonment endure? as in the captor's grasp itself I had died for sure وہ جو ہیں تاریخ سے واقف بتائیں فرق باد آہ و باد عاد ...

    مزید پڑھیے

    دست عدو سے شب جو وہ ساغر لیا کیے

    دست عدو سے شب جو وہ ساغر لیا کیے کن حسرتوں سے خون ہم اپنا پیا کیے while from my rival's hand, last night, she was accepting wine with such yearnings unfulfilled I drank this blood of mine شکر ستم نے اور بھی مایوس کر دیا اس بات کا وہ غیر سے شکوہ کیا کیے my gratitude for her torment then irked her even more she went up to my rival complaining on this score کب دل کے چاک کرنے کی ...

    مزید پڑھیے

    یار کو محروم تماشا کیا

    یار کو محروم تماشا کیا مرگ مفاجات نے یہ کیا کیا آپ جو ہنستے رہے شب بزم میں جان کو دشمن کی میں رویا کیا عرض تمنا سے رہا بے قرار شب وہ مجھے میں اسے چھیڑا کیا سرد ہوا دل وہ ہے غیروں سے گرم شعلے نے الٹا مجھے ٹھنڈا کیا مہر قمر کا ہے اب ان کو گمان آہ فلک سیر نے یہ کیا کیا ان کو محبت ہی ...

    مزید پڑھیے
صفحہ 2 سے 3