عشق کی میرے جو شہرت ہو گئی
عشق کی میرے جو شہرت ہو گئی یار سے مجھ کو ندامت ہو گئی خاک عرض مدعا اس سے کروں جس کو باتوں میں کدورت ہو گئی یاں سے جانے کو ہیں وہ آچک کہیں کیا بلا اے ابر رحمت ہو گئی اب ستم اغیار پر کرنے لگے میرے مر جانے سے عبرت ہو گئی جلوۂ معنی نظر آنے لگا پیتے پیتے مے یہ صورت ہو گئی ان کی باتیں ...