اثر آہ دل زار کی افواہیں ہیں
اثر آہ دل زار کی افواہیں ہیں یعنی مجھ پر کرم یار کی افواہیں ہیں شرم اے نالۂ دل خانۂ اغیار میں بھی جوش افغان عزا بار کی افواہیں ہیں کب کیا دل پہ مرے پند و نصیحت نے اثر ناصح بیہودہ گفتار کی افواہیں ہیں جنس دل کے وہ خریدار ہوئے تھے کس دن یہ یونہی کوچہ و بازار کی افواہیں ہیں قیس و ...