Shefta Mustafa Khan

مصطفیٰ خاں شیفتہ

مصطفیٰ خاں شیفتہ کی غزل

    اثر آہ دل زار کی افواہیں ہیں

    اثر آہ دل زار کی افواہیں ہیں یعنی مجھ پر کرم یار کی افواہیں ہیں شرم اے نالۂ دل خانۂ اغیار میں بھی جوش افغان عزا بار کی افواہیں ہیں کب کیا دل پہ مرے پند و نصیحت نے اثر ناصح بیہودہ گفتار کی افواہیں ہیں جنس دل کے وہ خریدار ہوئے تھے کس دن یہ یونہی کوچہ و بازار کی افواہیں ہیں قیس و ...

    مزید پڑھیے

    دیکھوں تو کہاں تک وہ تلطف نہیں کرتا

    دیکھوں تو کہاں تک وہ تلطف نہیں کرتا آرے سے اگر چیرے تو میں اف نہیں کرتا تم دیتے ہو تکلیف مجھے ہوتی ہے راحت سچ جانیے میں اس میں تکلف نہیں کرتا سب باتیں انہیں کی ہیں یہ سچ بولیو قاصد کچھ اپنی طرف سے تو تصرف نہیں کرتا سو خوف کی ہو جائے مگر رند نظرباز دل جلوہ گہ لانشف و شف نہیں ...

    مزید پڑھیے

    دل کا گلہ فلک کی شکایت یہاں نہیں

    دل کا گلہ فلک کی شکایت یہاں نہیں وہ مہرباں نہیں تو کوئی مہرباں نہیں ہم آج تک چھپاتے ہیں یاروں سے راز عشق حالانکہ دشمنوں سے یہ قصہ نہاں نہیں زیبا نہیں ہے دوست سے کرنا معاملہ کچھ ورنہ ناز جان کے بدلے گراں نہیں ہم زمرۂ رقیب میں مل کر وہاں گئے جب شوق رہ نما ہو کوئی پاسباں ...

    مزید پڑھیے

    شوخی نے تیری لطف نہ رکھا حجاب میں

    شوخی نے تیری لطف نہ رکھا حجاب میں جلوے نے تیرے آگ لگائی نقاب میں وہ قطرہ ہوں کہ موجۂ دریا میں گم ہوا وہ سایہ ہوں کہ محو ہوا آفتاب میں اس صوت جاں نواز کا ثانی بنا نہیں کیا ڈھونڈتے ہو بربط و عود و رباب میں پوچھی تھی ہم نے وجہ ملاقات مدعی اک عمر ہو گئی انہیں فکر جواب میں لڑتی نہ ...

    مزید پڑھیے

    کم فہم ہیں تو کم ہیں پریشانیوں میں ہم

    کم فہم ہیں تو کم ہیں پریشانیوں میں ہم دانائیوں سے اچھے ہیں نادانیوں میں ہم in my lack of knowledge, less troubles bother me much better than being wise has been behaving foolishly شاید رقیب ڈوب مریں بحر شرم میں ڈوبیں گے موج اشک کی طغیانیوں میں ہم it could be in a sea of shame my rival will be drowned I, sunken in the stormy waves of envy will be found محتاج فیض نامیہ ...

    مزید پڑھیے

    کب نگہ اس کی عشوہ بار نہیں

    کب نگہ اس کی عشوہ بار نہیں کب نگاہیں کرشمہ زار نہیں غیر پر رحم یہ کسے آیا تم تو مانا ستم شعار نہیں یاں فغاں سے لہو ٹپکتا ہے میں نواسنج شاخسار نہیں کلفت دل سے ہے جو آلودہ گوہر اشک آبدار نہیں ہم ہیں ایسے فراخ رو درویش محفل پادشہ سے عار نہیں نہ جلا خانۂ عدو تو نہ ہنس شعلۂ آہ ہے ...

    مزید پڑھیے

    دل لیا جس نے بے وفائی کی

    دل لیا جس نے بے وفائی کی رسم ہے کیا یہ دل ربائی کی تذکرہ صلح غیر کا نہ کرو بات اچھی نہیں لڑائی کی تم کو اندیشۂ گرفتاری یاں توقع نہیں رہائی کی وصل میں کس طرح ہوں شادی مرگ مجھ کو طاقت نہیں جدائی کی دل نہ دینے کا ہم کو دعویٰ ہے کس کو ہے لاف دل ربائی کی ایک دن تیرے گھر میں آنا ...

    مزید پڑھیے

    اٹھ صبح ہوئی مرغ چمن نغمۂ سرا دیکھ

    اٹھ صبح ہوئی مرغ چمن نغمۂ سرا دیکھ نور سحر و حسن گل و لطف ہوا دیکھ دو چار فرشتوں پہ بلا آئے گی نا حق اے غیرت ناہید نہ ہو نغمہ سرا دیکھ منت سے مناتے ہیں مجھے میں نہیں منتا اوضاع ملک دیکھ اور اطوار‌ گدا دیکھ گر بو الہوسی یوں تجھے باور نہیں آتی اک مرتبہ اغیار کے قابو میں تو آ ...

    مزید پڑھیے

    میں وصل میں بھی شیفتہؔ حسرت طلب رہا

    میں وصل میں بھی شیفتہؔ حسرت طلب رہا گستاخیوں میں بھی مجھے پاس ادب رہا تغییر وضع کی ہے اشارہ وداع کا یعنی جفا پہ خوگر الطاف کب رہا میں رشک سے چلا تو کہا بے سبب چلا اس پر جو رہ گیا تو کہا بے سبب رہا دم بھر بھی غیر پر نگہ لطف کیوں ہے اب اک عمر میں ستم کش چشم غضب رہا تھا شب تو آہ میں ...

    مزید پڑھیے

    جو کوئے دوست کو جاؤں تو پاسباں کے لیے

    جو کوئے دوست کو جاؤں تو پاسباں کے لیے نہیں ہے خواب سے بہتر کچھ ارمغاں کے لیے تمام علت درماندگی ہے قلت شوق تپش ہوئی پر پرواز مرغ جاں کے لیے شریک بلبل و قمری ہیں وہ زبوں فطرت جو بے قرار رہے سیر گلستاں کے لیے امید ہے کہ نباہیں گے امتحاں لے کر جو اس قدر متقاضی ہیں امتحاں کے لیے نہ ...

    مزید پڑھیے
صفحہ 1 سے 3