شیراز خان کے تمام مواد

5 غزل (Ghazal)

    فرہاد نہیں مجنوں رانجھا بھی نہیں ہوں

    فرہاد نہیں مجنوں رانجھا بھی نہیں ہوں ہوں عشق کا مارا مگر اتنا بھی نہیں ہوں کیوں طنز کسے ہیں مرے کردار پہ اے دوست گر اچھا نہیں ہوں ترے جیسا بھی نہیں ہوں وہ آئیں تو سمجھیں کہ مرا حال برا ہے میں اس لئے گھر اپنا سجاتا بھی نہیں ہوں بدنام مجھے کر کے وہ مشہور ہوئے ہیں سو اس لئے محفل ...

    مزید پڑھیے

    جدائی بے وفائی اور تنہا رات کا غم

    جدائی بے وفائی اور تنہا رات کا غم یہ بس میرا نہیں ہے یہ ہے ساری ذات کا غم نہ کوئی چاند ہے ساتھی نہ تارہ ہے نہ جگنو نہ دیکھا جائے گا مجھ سے اب اور اس رات کا غم کوئی آئے چلا جائے کوئی روٹھے منائے نہیں محسوس ہوتا اب کسی بھی بات کا غم تجھے جتنی خوشی ہے جیتنے پر اس سے بڑھ کر منایا جا ...

    مزید پڑھیے

    لگا ہوا ہے ہر ایک انساں اسے لبھانے کی کوششوں میں

    لگا ہوا ہے ہر ایک انساں اسے لبھانے کی کوششوں میں لڑائی آپس میں کر رہا ہے بس اس کو پانے کی کوششوں میں اداس آنکھوں میں دکھ رہا ہے کہ بات کچھ تو ستا رہی ہے مگر مسلسل لگا ہوا ہے وہ مسکرانے کی کوششوں میں بس اک دلاسے سے رات بھر میں ہی بھر گیا خاکدان پورا یہ آخری کش میں پی رہا ہوں تمہیں ...

    مزید پڑھیے

    دور تک رہ گئی ہے تنہائی

    دور تک رہ گئی ہے تنہائی خود پرستی کی یہ سزا پائی اب تو دیدار بھی میسر کر جب عطا کی ہے مجھ کو بینائی کیا ترا کوئی بھی نہیں ہے یہاں طنز کرتی ہے روز تنہائی دوسرا عشق کرکے دیکھ لیا ہو نہ پائی تمہاری بھرپائی کون میری گلی میں آیا ہے کس نے ساری فضا ہے مہکائی مسئلے بات کر کے حل ...

    مزید پڑھیے

    دوا سے تو کچھ ہوا نہیں اب دعا کریں گے

    دوا سے تو کچھ ہوا نہیں اب دعا کریں گے اثر دعا میں ہوا نہیں گر تو کیا کریں گے حقیقتوں کی یہ دنیا ہم کو نہ ملنے دے گی سو یار ہم تم سے خواب میں ہی ملا کریں گے ہمیں ہے دریا کے پار جانا سو ہم کسی دن اس ایک بوڑھے درخت سے مشورہ کریں گے اگر یہ سوچو گے پھر تو دنیا میں کیا بچے گا ہمیں ملی ہے ...

    مزید پڑھیے