جب چلی سرد ہوا
موسم سرما کی یہ ویران اور مغموم شام کہر کی چادر میں لپٹی ہے سسکتی کائنات گیت خوابوں کی طرح لرزاں سلگتی ہے حیات برف میں ڈوبی ہوا کی سیٹیاں چیل کے جنگل کی میٹھی لوریاں ڈگمگاتے ہیں پریشاں مضمحل لمحوں کے گام چار سو آواز دے کر پوچھتا پھرتا ہوں میں ان ہواؤں کی جبین ناز پر کیا کہیں لکھا ...