Rind Lakhnavi

رند لکھنوی

رند لکھنوی کی غزل

    ہیں یہ سارے جیتے جی کے واسطے

    ہیں یہ سارے جیتے جی کے واسطے کون مرتا ہے کسی کے واسطے آدمی سہتا ہے کیا کیا ذلتیں نفس مردود شقی کے واسطے ہم بھی جائیں گے سلیماں تک کبھی عرض کرنے اک پری کے واسطے در بدر کوچوں میں ہم بھی پھر چکے ایک حسن خانگی کے واسطے کشت زار زعفراں سے کم نہیں رنگ زرد اپنا ہنسی کے واسطے کیوں دیے ...

    مزید پڑھیے

    زمانے میں وہ مہ لقا ایک ہے

    زمانے میں وہ مہ لقا ایک ہے ہزاروں میں وہ دل ربا ایک ہے خداوند ارض و سما ایک ہے قسم ہے خدا کی خدا ایک ہے برابر ہے اپنا وجود و عدم ہماری بقا اور فنا ایک ہے عدم ابتدا ہے عدم انتہا مری ابتدا انتہا ایک ہے نہ ہوں گے یہ حادث رہے گا قدیم غرض سب ہیں فانی بقا ایک ہے ذرا غور سے مرأت دل کو ...

    مزید پڑھیے

    الفت نہ کروں گا اب کسی کی

    الفت نہ کروں گا اب کسی کی دشمن ہوا جس سے دوستی کی حالت کہوں اپنی بے خودی کی دل دے کے سنو جو میرے جی کی اول اول بھلائیاں کیں آخر آخر بہت بری کی مصروف ہے سینہ کوبی میں دل آتی ہے صدا دھڑا دھڑی کی الفت پہ تیری خاتمہ ہے اب لے لے قسم تو عاشقی کی کرتے رہے اختراع آپھی تقلید نہ کی کبھی ...

    مزید پڑھیے

    عدو غیر نے تجھ کو دلبر بنایا

    عدو غیر نے تجھ کو دلبر بنایا کوئی جوڑ مجھ پر مقرر بنایا کوئی سرو رکھتا نہ تھا راست یہ ہے ترے قد کو میں نے صنوبر بنایا کیا میں نے جلاد اسے اپنے حق میں ستم سہتے سہتے ستم گر بنایا نہ گنتا تھا کوئی حسینوں میں او بت تجھے دے کے دل میں نے دلبر بنایا شکر لب کہا میں نے کڑوے ہوئے تم عبث ...

    مزید پڑھیے

    گلے لگائیں بلائیں لیں تم کو پیار کریں

    گلے لگائیں بلائیں لیں تم کو پیار کریں جو بات مانو تو منت ہزار بار کریں یہ ہاتھ کیسے ہیں بیکار کچھ تو کار کریں بہار آئی گریبان تار تار کریں کہاں سے لائیں اب اس کو جو ہمکنار کریں تسلی کیا تری او جان بے قرار کریں وہ ربط تم سے بڑھائیں وہ تم کو یار کریں ہزار طرح کے جو جبر اختیار ...

    مزید پڑھیے

    دل کس سے لگاؤں کہیں دلبر نہیں ملتا

    دل کس سے لگاؤں کہیں دلبر نہیں ملتا کیا ظلم سہوں کوئی ستم گر نہیں ملتا خط لے کے گیا جو وہ کبوتر نہیں ملتا کیا ذکر کبوتر کا ہے اک پر نہیں ملتا زلفوں کی طرح عمر بسر ہو گئی اپنی ہم خانہ بدوشوں کو کہیں گھر نہیں ملتا کیا خاک مداوا کریں شوریدہ سری کا سر پھوڑنے کو ڈھونڈھیں تو پتھر نہیں ...

    مزید پڑھیے

    وقار شاہ ذوی الاقتدار دیکھ چکے

    وقار شاہ ذوی الاقتدار دیکھ چکے ظہور قدرت پروردگار دیکھ چکے نقاب کھول کے روئے نگار دیکھ چکے کچھ ایک بار نہیں لاکھ بار دیکھ چکے جہاں کے عیش و غم روزگار دیکھ چکے جو دیکھتا تھا سو پروردگار دیکھ چکے وہ جیتے جی ہوئے ایذا سے نزع کی آگاہ جو صدمے تیرے شب انتظار دیکھ چکے خدا کے واسطے ...

    مزید پڑھیے

    آج انکار نہ فرمائیے آپ

    آج انکار نہ فرمائیے آپ شب کی شب گھر مرے رہ جائیے آپ جائیے گھر کو نہ گھبرائیے آپ ہم نہ مر جائیں گے بس جائیے آپ کھول دو شوق سے بند انگیا کے لیٹ کر ساتھ نہ شرمائیے آپ آتے ہی کہتے ہو میں جاؤں گا میں بھی آنے کا نہیں جائیے آپ ڈھونڈھتے پھریے اگر لے کے چراغ مجھ سا عاشق جو کہیں پائیے ...

    مزید پڑھیے

    کھلی ہے کنج قفس میں مری زباں صیاد

    کھلی ہے کنج قفس میں مری زباں صیاد میں ماجرائے چمن کیا کروں بیاں صیاد دکھائے گا نہ اگر سیر بوستاں صیاد پھڑک پھڑک کے قفس ہی میں دوں گا جاں صیاد جہاں گیا میں گیا لے کے دام واں صیاد پھرا تلاش میں میری کہاں کہاں صیاد دکھایا کنج قفس مجھ کو آب و دانہ نے وگرنہ دام کہاں میں کہاں کہاں ...

    مزید پڑھیے

    کیوں کر نہ لائے رنگ گلستاں نئے نئے

    کیوں کر نہ لائے رنگ گلستاں نئے نئے گاتے ہیں راگ مرغ خوش الحاں نئے نئے شاعر نئے نئے ہیں سخنداں نئے نئے پیدا ہوئے ہیں اب تو غزل خواں نئے نئے دلبر متاع دل کے ہیں خواہاں نئے نئے کرتا ہے حسن عشق کے ساماں نئے نئے آسیب عشق سر سے اترتا نہیں مرے لکھتا ہے نقش روز پری خواں نئے نئے بہکا کے ...

    مزید پڑھیے
صفحہ 3 سے 4