ہیں یہ سارے جیتے جی کے واسطے
ہیں یہ سارے جیتے جی کے واسطے کون مرتا ہے کسی کے واسطے آدمی سہتا ہے کیا کیا ذلتیں نفس مردود شقی کے واسطے ہم بھی جائیں گے سلیماں تک کبھی عرض کرنے اک پری کے واسطے در بدر کوچوں میں ہم بھی پھر چکے ایک حسن خانگی کے واسطے کشت زار زعفراں سے کم نہیں رنگ زرد اپنا ہنسی کے واسطے کیوں دیے ...