رینو نیر کی غزل

    دنیا کو ہر چیز دکھائی جا سکتی ہے

    دنیا کو ہر چیز دکھائی جا سکتی ہے پتھر میں بھی آنکھ بنائی جا سکتی ہے دل کی مٹی کی زرخیزی ایسی ہے کہ کیسی بھی ہو چیز اگائی جا سکتی ہے ہجر کا موسم وو موسم ہے جس میں جاناں آنکھوں میں بھی رات بتائی جا سکتی ہے پتھر کو ٹھوکر کی حد تک تم نہ جانو پتھر سے تو آگ لگائی جا سکتی ہے خود کے ہونے ...

    مزید پڑھیے

    مرے دل میں اس نے ایسے تیرا خیال ڈالا

    مرے دل میں اس نے ایسے تیرا خیال ڈالا کورے لباس پر ہو جیسے گلال ڈالا کسی سمت بھی تو رہتا ہرگز مرا نہ ہوتا ترا نام لکھ کے سکہ پھر بھی اچھال ڈالا میں زمیں سے آسماں کی ہر حد کے پار پہنچی تہ تک تھا تیری جانا سب کچھ کھنگال ڈالا اک پل میں دیکھ تیری تصویر بن گئی جب کسی آرزو میں لا کر ...

    مزید پڑھیے

    خدا سے اسے مانگ کر دیکھتے ہیں

    خدا سے اسے مانگ کر دیکھتے ہیں پھر اپنی دعا کا اثر دیکھتے ہیں ہمیں ہیں مسافر ہمیں آبلہ پا تماشہ اے گرد سفر دیکھتے ہیں فقیری فقیری فقیری فقیری نہ جنت نہ دنیا نہ گھر دیکھتے ہیں ادھر آ اے حسن تمنا ادھر آ نظر بھر تجھے اک نظر دیکھتے ہیں کسی عکس میں اب وہ باندھیں گے مجھ کو چرا کر ...

    مزید پڑھیے

    اجالا کو بہ کو ہے اور کیا ہے

    اجالا کو بہ کو ہے اور کیا ہے میرے ہم راہ تو ہے اور کیا ہے ترے احساس کی دستک ہمیشہ خیالوں پر رفو ہے اور کیا ہے یہ خاموشی اچانک لگ گئی جو مسلسل گفتگو ہے اور کیا ہے اگرچہ دور ہو نزدیک ہو پر کمال آرزو ہے اور کیا ہے وہاں بس میں نہیں ہوں اور سب ہے یہاں بس تو ہی تو ہے اور کیا ہے اب اس ...

    مزید پڑھیے

    چراغ زیست مدھم ہے ابھی تو نم نہ کر آنکھیں

    چراغ زیست مدھم ہے ابھی تو نم نہ کر آنکھیں ابھی امید میں دم ہے ابھی تو نم نہ کر آنکھیں کبھی تو وصل کی چارہ گری بھی کام آئے گی ابھی تو ہجر مرہم ہے ابھی تو نم نہ کر آنکھیں ابھی تو سامنے بیٹھی ہوں بالکل سامنے تیرے ابھی کس بات کا غم ہے ابھی تو نم نہ کر آنکھیں ابھی جو فکر ہے تیری اسے ...

    مزید پڑھیے

    دھوپ کو کچھ اور جلنا چاہئے

    دھوپ کو کچھ اور جلنا چاہئے جسم کا سایہ پگھلنا چاہئے چیٹیاں چلنے لگی ہیں پیٹھ میں اب تمہارا تیر چلنا چاہئے گود سونی ہو چلی ہے آنکھ کی اب تو کوئی خواب پلنا چاہئے غم بیاں ہو پیاس کا کچھ اس طرح ریت سے پانی نکلنا چاہئے بندگی کی لو ہو ایسی جس میں کہ سنگ مرمر تک پگھلنا چاہئے ہم بدن ...

    مزید پڑھیے

    شیشہ صفت تھے آپ اور شیشہ صفت تھے ہم

    شیشہ صفت تھے آپ اور شیشہ صفت تھے ہم بکھرے ہوئے سے آپ ہیں بکھرے ہوئے سے ہم اس نے تھما دی ہاتھ میں اک بانسری ہمیں پتھر اٹھا کے ہاتھ میں دینے لگے تھے ہم موجود ہے تری طرح وہ پاس بھی نہیں کیسے کہیں یہ بات اب پاگل ہوا سے ہم ہر شخص تھا تری طرف تیری ہی بزم تھی کس کو سناتے پھر ترے قصے جفا ...

    مزید پڑھیے

    سفر اک دوسرے کا ایک سا ہے

    سفر اک دوسرے کا ایک سا ہے بدن منزل نہیں ہے مرحلہ ہے مرے ماتھے پہ جو تابندگی ہے فنا ہونے سے پہلے کی قبا ہے میں تجھ کو عمر ساری یاد آؤں ترے اس بھولنے کی یہ سزا ہے وہ محفل میں وہی تنہائی میں بھی مجھی میں آ کے مجھ کو ڈھونڈھتا ہے تری نظروں سے گزری رہ گزر بھی ہزاروں منزلوں کا راستہ ...

    مزید پڑھیے

    بچھڑتے وقت کی اس ایک بد گمانی میں

    بچھڑتے وقت کی اس ایک بد گمانی میں صدائیں بہہ گئی سب آنکھ ہی کے پانی میں بہار رنگ کے سپنے ملیں گے آنکھوں میں خزاں جو لوٹ کر آئے گی شادمانی میں کسی بھی حشر سے محروم ہی رہا وہ بھی مری طرح کا جو کردار تھا کہانی میں جگہ جگہ سے سیاہی بھی دھل گئی ہوگی بہا ہے وقت جو اس ڈایری پرانی میں

    مزید پڑھیے

    اب کے ملے تو ہم دونوں ہی (ردیف .. ن)

    اب کے ملے تو ہم دونوں ہی خود کی تجھ سے بات کریں گے خود کی خود سے باتیں کر کے ہم دونوں اکتا بھی چکے ہیں تیرے خیالوں میں ڈوبے تو دنیا ساری گھوم لی ہم نے در پہ اک دستک جو ہوئی تو ہم کو یہ معلوم ہوا کے کب سے ہم گھر آ بھی چکے ہے راتوں کو جگتے رہنا بھی خوابوں سے بچتے رہنا بھی آنکھوں کی ...

    مزید پڑھیے