Qamar Raza Shahzad

قمر رضا شہزاد

قمر رضا شہزاد کی غزل

    ہمیشہ جیتنے والا کبھی تو ہارا بھی ہو

    ہمیشہ جیتنے والا کبھی تو ہارا بھی ہو محبتوں میں کوئی فیصلہ ہمارا بھی ہو میں اس کنارے پہ بیٹھا ہوں اور سوچتا ہوں مری گرفت میں دریا کا وہ کنارا بھی ہو یہ شہر چھوڑنا مشکل تو ہے مگر سر دست کسی کو میرا ٹھہرنا یہاں گوارا بھی ہو مجھے قبول نہیں تہمت دعا اور وہ یہ چاہتا ہے کسی نے اسے ...

    مزید پڑھیے

    وجود خاک سے باہر نکال دے گا وہ

    وجود خاک سے باہر نکال دے گا وہ مجھے بھی اپنے سراپے میں ڈھال دے گا وہ میں جانتا ہوں محبت میں ہارنے کے بعد سبھی کے سامنے میری مثال دے گا وہ شکوہ بخت پہ مسرور شخص کو آخر کسی فقیر کے قدموں میں ڈال دے گا وہ میں اس کے حق میں یہاں آخری دعا گو ہوں مجھے بھی اپنی صفوں سے نکال دے گا وہ کوئی ...

    مزید پڑھیے

    حیرت ہے کہ جو ظلم سے تقدیر بنائیں

    حیرت ہے کہ جو ظلم سے تقدیر بنائیں کچھ لوگ انہیں صاحب توقیر بنائیں اک خواب میں رکھیں کوئی گزرا ہوا لمحہ اک خواب سے آئندہ کی تعبیر بنائیں پتھر پہ کریں نقش ترے ہجر کا قصہ پانی پہ ترے وصل کی تصویر بنائیں شاید کسی زندان سے نکلے نہیں اب تک یہ لوگ جو کاغذ پہ بھی زنجیر بنائیں اک بار ...

    مزید پڑھیے

    عجیب دکھ ہے لبوں پر گلا کوئی بھی نہ تھا

    عجیب دکھ ہے لبوں پر گلا کوئی بھی نہ تھا بچھڑتے وقت کسی سے خفا کوئی بھی نہ تھا ہر ایک شخص کو سچے حروف ازبر تھے کسی کے پاس مگر معجزہ کوئی بھی نہ تھا بہ نام حسن سبھی گفتگو کمال کی تھی یہ اور بات سر آئنہ کوئی بھی نہ تھا عذاب ذہن تھی اک مہر آب و دانے پر ترے نگر میں خوشی سے رہا کوئی بھی ...

    مزید پڑھیے

    طلسم حلقۂ سیارگاں میں کیا رہنا

    طلسم حلقۂ سیارگاں میں کیا رہنا کسی کی سلطنت بے اماں میں کیا رہنا الگ جلایا ہے اپنا چراغ اس خاطر تمام عمر صف دوستاں میں کیا رہنا نہ جانے چھین لے کب ہم سے شاہ کا کردار فریب عمر تری داستاں میں کیا رہنا یہ وقت لمحۂ موجود کا تسلسل ہے ملال خواہش آئندگان میں کیا رہنا اگر وہ خرم و ...

    مزید پڑھیے

    نئی زمین نیا آسماں بنانا ہے

    نئی زمین نیا آسماں بنانا ہے ترے مکان سے بہتر مکاں بنانا ہے جو بات سچ ہے نہیں کھولنی زمانے پر تخیلات کو حسن بیاں بنانا ہے ہوا سے تیری حمایت میں گفتگو کے بعد دیے کی لو کو ترا پاسباں بنانا ہے تلاش کرنے ہیں کچھ اپنے جیسے لوگ مجھے اور ایک حلقۂ آوارگاں بنانا ہے سپرد کر کے کسی کو ...

    مزید پڑھیے

    لہو میں ڈوبا ہوا پیرہن چمکتا ہے

    لہو میں ڈوبا ہوا پیرہن چمکتا ہے سلگتی ریت پر اک گل بدن چمکتا ہے ستارے بجھتے چلے جا رہے ہیں خیموں میں بس اک چراغ سر انجمن چمکتا ہے ضعیف چن تو رہا ہے جوان لاشوں کو مگر نگاہ میں اک بانکپن چمکتا ہے یہ کیسے پھول جھڑے شیر خار ہونٹوں سے کہ جن کے نور سے سارا چمن چمکتا ہے یہ کون ماہ ...

    مزید پڑھیے

    جہاں ہوتے کسی چشم ستارہ یاب میں ہوتے

    جہاں ہوتے کسی چشم ستارہ یاب میں ہوتے ہم ایسے لوگ ہر لحظہ حصار آب میں ہوتے تو پھر ہم پر بھی کھلتا حسن تیرے عارض و لب کا اگر کچھ اور چہرے بھی ہمارے خواب میں ہوتے یہ مٹی پاؤں میں زنجیر کی صورت ہے ورنہ ہم زمیں کو چھوڑ کر اک خطۂ شاداب میں ہوتے سمندر کو بپھرتے دیکھ کر یہ جی میں آتا ...

    مزید پڑھیے

    کوئی چراغ عطا کر کوئی گلاب اتار

    کوئی چراغ عطا کر کوئی گلاب اتار وگرنہ شہر ستم پر وہی عذاب اتار زمین شہر کو اس درجہ منجمد کر دے ہر ایک چیخ اٹھے سر پہ آفتاب اتار ہمیں برہنہ کیا تو نے ہر زمانے میں زمیں پہ تو بھی کبھی خود کو بے حجاب اتار ہر ایک ہاتھ میں یا کاسۂ گدائی دے وگرنہ سب کے لیے رزق بے حساب اتار میں تیرے ...

    مزید پڑھیے

    کسی چشم ہنر کی پاسبانی میں نہیں رہنا

    کسی چشم ہنر کی پاسبانی میں نہیں رہنا ستارے کو زیادہ دیر پانی میں نہیں رہنا یہ مٹی کیوں مرے قدموں سے لپٹی ہے کہ جب میں نے ہمیشہ کے لیے دنیائے فانی میں نہیں رہنا کہیں اس داستاں میں ایک ایسا موڑ آئے گا جہاں کردار نے اپنی کہانی میں نہیں رہنا تجھے ہم راہ تو رکھ لوں گا میں لیکن دل ...

    مزید پڑھیے
صفحہ 2 سے 4