Qamar Raees

قمر رئیس

قمر رئیس کی غزل

    یہ سناٹا تو دم توڑے ہر اک آواز آنے دو

    یہ سناٹا تو دم توڑے ہر اک آواز آنے دو نہ کچھ آئے تو آواز شکست ساز آنے دو صدائے نغمۂ گل ہے بصد انداز آنے دو فضائے خیمۂ جاں میں چمن کا راز آنے دو یہ طائر اونگھتے رہتے ہیں بیٹھے سبز گنبد پر اگر چگ لیں کہیں سے ہمت پرواز آنے دو وہ در جو بند تھا صدیوں سے حبس دم کے ماروں پر وہی در ہاں ...

    مزید پڑھیے

    مرنے کی کوئی راہ نہ جینے کا سبب ہے

    مرنے کی کوئی راہ نہ جینے کا سبب ہے جینا بھی یہاں قہر ہے مرنا بھی غضب ہے آ جاؤ یہ کوچہ بھی رہ گیسو و لب ہے زنجیر بھی خنجر پہ لہو بھی یہاں سب ہے سنتے ہوئے جگ بیت گیا قصۂ جمہور اب اس کو حقیقت بھی بنا ڈالیے تب ہے یہ آج فضا میں جو گھٹن ہے جو امس ہے کہتے ہیں یہ طوفاں کے لیے حسن طلب ...

    مزید پڑھیے

    متاع فکر نشاط عمل فروغ حیات

    متاع فکر نشاط عمل فروغ حیات تمہارا درد تمہاری یہ آخری سوغات حریف سارا زمانہ رقیب سارا جہاں چرا نہ لے کوئی ڈرتا ہوں اس کا رنگ ثبات کہاں چھپاؤں اسے کس طرح بچاؤں اسے چراغ ایک ہوا تیز اور اندھیری رات فراغ جسم کا دل کا سکوں نظر کا قرار تمہارے درد کے دشمن ہیں یہ سبھی حالات میں اس ...

    مزید پڑھیے

    چلو یہ بھی اپنا ہی جرم ہے یہ گناہ بھی مرے سر گئے

    چلو یہ بھی اپنا ہی جرم ہے یہ گناہ بھی مرے سر گئے میں نہ چل سکا تو ٹھہر گیا وہ گزر سکے تو گزر گئے وہی ساعتیں ہیں فروغ جاں مری راہ شوق میں آج بھی مری منزلوں کے نصیب جب ترے نقش پا سے سنور گئے وہی مرحلے مری یاد ہیں وحی مشغلے مرا خواب ہیں شب و روز جب ترے گیسوؤں ترے عارضوں میں ٹھہر ...

    مزید پڑھیے

    یہ جو رہ رہ کے دھواں اٹھتا ہے

    یہ جو رہ رہ کے دھواں اٹھتا ہے آگ بھی ہوگی جہاں اٹھتا ہے دل کے پہلو میں بھی اک دل ہے ضرور ایک سے غم یہ کہاں اٹھتا ہے آ ہی جائیں گے سیاسی گدھ بھی شہر میں امن و اماں اٹھتا ہے اے خدا اب کہاں جائیں گے صنم پردۂ کعبۂ جاں اٹھتا ہے بال چاندی سے ہیں پھر بھی اکثر دل پہ اک نقش جواں اٹھتا ...

    مزید پڑھیے

    اے خاک وطن تیرے پرستار تو سب ہیں

    اے خاک وطن تیرے پرستار تو سب ہیں ہم ہی ہوئے کیوں خار گنہ گار تو سب ہیں ہم بھی ہیں کفن سر پہ اٹھائے ہوئے احساں جلدی تھی تمہیں ورنہ سر دار تو سب ہیں دیکھیں گے بنے شیشۂ جاں کس کا نشانہ پتھر لیے یوں درپئے آزار تو سب ہیں باہر نہ دھواں ہے نہ سلگنے کا نشاں ہے اندر سے بھڑکتے ہوئے انگار ...

    مزید پڑھیے