Priyadarshi Thakur Khayal

پریہ درشی ٹھا کرخیال

  • 1946

پریہ درشی ٹھا کرخیال کی نظم

    اندھیرا

    ابھی روشن ہے یہ چراغ تو یہ نہ سمجھو کی اب اندھیرے کا کوئی وجود ہی نہ رہا کی وہ روشنی کی تلوار سے کاٹ کر میرا جا چکا ہے اس دھوکے میں نہ رہنا کی وہ ہمیشہ کی لیے خریدہ جا چکا ہے اس نے تو بس اک چالاک اور شاطر سپاہ سالار کی طرح اپنی پہلی ہار کو پہلی بازی جیتنے والے دشمن کی جگمگاہٹی وردی ...

    مزید پڑھیے

    آنسو

    آنسو کی کوئی قیمت نہیں ہوتی بیش قیمت تو ہوتا ہے موتی لیکن سنو ان سب سے بڑھ کر ہے وقت کی الٹ پھیر ہے وقت کی الٹ پھیر آنسو کو موتی موتی کو آنسو ہوتے نہیں لگتی دیر میری رائے مانو دونوں کی قدر جانو

    مزید پڑھیے

    بسلری

    آدھا ہندو ہوں شراب پیتا ہوں آدھا مسلمان کہ سور نہیں کھاتا میاں غالب فرماتے تھے خیالؔ صاحب آپ بھی ہوتے ہوتے ہو گئے شاید آدھے فرنگی ہریدوار کی چوک پر ہری حلوائی کی دوکان میں دیسی گھی کی پوری سبزی کھاتے تھے مگر پینے کے لیے بسلری ہی منگواتے تھے

    مزید پڑھیے