ہلکی سی بھی کانوں میں صدا تک نہیں آتی
ہلکی سی بھی کانوں میں صدا تک نہیں آتی گلزار میں اب باد صبا تک نہیں آتی سب بھول گئی جیسے سبق شرم و حیا کے اب سر پہ نظر اس کے ردا تک نہیں آتی کچھ ایسی خفا مجھ سے مری جان ہوئی ہے اب حال مرا کرنے پتہ تک نہیں آتی میں اس کو مناؤں بھی تو کس طرح مناؤں بتلانے مجھے میری خطا تک نہیں ...