سنگ دل زمانے کو کیسے کوئی سمجھائے کیسے جیتے مرتے ہیں وہ جو عشق کرتے ہیں

سنگ دل زمانے کو کیسے کوئی سمجھائے کیسے جیتے مرتے ہیں وہ جو عشق کرتے ہیں
درد و غم کے گھیرے میں ہر گھڑی اکیلے میں ٹوٹتے بکھرتے ہیں وہ جو عشق کرتے ہیں


عمر کاٹ دیتے ہیں خود کو آزمانے میں بات یہ حقیقت ہے آج بھی زمانے میں
بار غم اٹھاتے ہیں زخم دل پہ کھاتے ہیں اور آہ بھرتے ہیں وہ جو عشق کرتے ہیں


جبر کے کنارے سے صبر کے جزیرے تک ہر قدم قیامت ہے پھر بھی ان کی ہمت ہے
تھام کر جگر اپنا غم کے اس سمندر میں ڈوبتے ابھرتے ہیں وہ جو عشق کرتے ہیں


عشق ہے خدا جن کا عشق ہی عبادت ہے عشق جن کی دنیا ہے عشق جن کی جنت ہے
ایسے لوگ دنیا میں خوف کس سے کھاتے ہیں کب کسی سے ڈرتے ہیں وہ جو عشق کرتے ہیں


کھوئے کھوئے رہتے ہیں اپنی داستان دل کب کسی سے کہتے ہیں دیکھو ایسے جیتے ہیں
بھول کر زمانے کو ہر گھڑی تصور کی جھیل میں اترتے ہیں وہ جو عشق کرتے ہیں


تبصروں میں رہتے ہیں تذکروں میں رہتے ہیں عشق کے فسانوں میں ہیں یہ داستانوں میں
پتھروں کی بستی سے لے کے دل کا آئینہ شان سے گزرتے ہیں وہ جو عشق کرتے ہیں


عشق کرنے والوں کی بات ہی نرالی ہے عشق کرنے والوں کی شان ہی عجب ہے کچھ
جتنے غم اٹھاتے ہیں جتنے اشک پیتے ہیں اتنے ہی نکھرتے ہیں وہ جو عشق کرتے ہیں


تم تو اپنے وعدوں کو یوں ہی توڑ دیتے ہو تم تو اپنی قسموں کو پل میں بھول جاتے ہو
واقعی جو عاشق ہیں اپنے عہد و پیماں سے کب بھلا مکرتے ہیں وہ جو عشق کرتے ہیں