دلوں کے درمیاں بے بات فتنہ ڈال دیتے ہیں
دلوں کے درمیاں بے بات فتنہ ڈال دیتے ہیں
یہ کیسے لوگ ہیں اپنوں میں جھگڑا ڈال دیتے ہیں
تمہیں کچھ بھوک کا احساس انساں کی نہیں لیکن
پرندوں کے لئے ہم چھت پہ دانہ ڈال دیتے ہیں
میں اس دھرتی کا واسی ہوں جہاں چیلے قلم کر کے
گرو کے چرنوں میں اپنا انگوٹھا ڈال دیتے ہیں
یقیناً لطف ہے کوئی تو ساون کے مہینے میں
خبر ساون کی سن کر لوگ جھولا ڈال دیتے ہیں
چٹانیں کاٹ کر وہ راستہ کیسے بنائیں گے
جو تھک کر راہ میں ہاتھوں سے تیشہ ڈال دیتے ہیں
کسی کی بد نظر کے وہ اثر میں آ نہیں سکتے
جو اپنے گھر کے دروازے پہ پردہ ڈال دیتے ہیں
انہیں عالمؔ کسی صورت میں منزل مل نہیں سکتی
فقط دو گام چل کر ہی جو ڈیرا ڈال دیتے ہیں