Mohammad Ishtiyaaq Aalam

محمّد اشتیاق عالم

محمّد اشتیاق عالم کے تمام مواد

5 غزل (Ghazal)

    ہلکی سی بھی کانوں میں صدا تک نہیں آتی

    ہلکی سی بھی کانوں میں صدا تک نہیں آتی گلزار میں اب باد صبا تک نہیں آتی سب بھول گئی جیسے سبق شرم و حیا کے اب سر پہ نظر اس کے ردا تک نہیں آتی کچھ ایسی خفا مجھ سے مری جان ہوئی ہے اب حال مرا کرنے پتہ تک نہیں آتی میں اس کو مناؤں بھی تو کس طرح مناؤں بتلانے مجھے میری خطا تک نہیں ...

    مزید پڑھیے

    دلوں کے درمیاں بے بات فتنہ ڈال دیتے ہیں

    دلوں کے درمیاں بے بات فتنہ ڈال دیتے ہیں یہ کیسے لوگ ہیں اپنوں میں جھگڑا ڈال دیتے ہیں تمہیں کچھ بھوک کا احساس انساں کی نہیں لیکن پرندوں کے لئے ہم چھت پہ دانہ ڈال دیتے ہیں میں اس دھرتی کا واسی ہوں جہاں چیلے قلم کر کے گرو کے چرنوں میں اپنا انگوٹھا ڈال دیتے ہیں یقیناً لطف ہے کوئی ...

    مزید پڑھیے

    منزل سے پہلے ہی چلنا چھوڑ دیا

    منزل سے پہلے ہی چلنا چھوڑ دیا مجھ کو اس نے راہ میں تنہا چھوڑ دیا پھینک دی اس نے ہاتھ سے جب تلوار تو پھر میں نے بھی دشمن کو زندہ چھوڑ دیا مرجھائے مرجھائے سے ہیں شاخوں پر پھولوں نے کیوں جانے کھلنا چھوڑ دیا دور ترقی تیرے صدقے چھوٹوں نے اپنے بڑوں کی عزت کرنا چھوڑ دیا اس دیپک کو ...

    مزید پڑھیے

    سنگ دل زمانے کو کیسے کوئی سمجھائے کیسے جیتے مرتے ہیں وہ جو عشق کرتے ہیں

    سنگ دل زمانے کو کیسے کوئی سمجھائے کیسے جیتے مرتے ہیں وہ جو عشق کرتے ہیں درد و غم کے گھیرے میں ہر گھڑی اکیلے میں ٹوٹتے بکھرتے ہیں وہ جو عشق کرتے ہیں عمر کاٹ دیتے ہیں خود کو آزمانے میں بات یہ حقیقت ہے آج بھی زمانے میں بار غم اٹھاتے ہیں زخم دل پہ کھاتے ہیں اور آہ بھرتے ہیں وہ جو عشق ...

    مزید پڑھیے

    حقیقتوں کو جو کر رہے ہیں رقم لہو سے رنگے ہوئے ہیں

    حقیقتوں کو جو کر رہے ہیں رقم لہو سے رنگے ہوئے ہیں لہو سے تحریر تر بہ تر ہے قلم لہو سے رنگے ہوئے ہیں محبتوں کا وہ قافلہ جو وفا کے پرچم لئے ہوئے تھا وہ ہے نشانے پہ قاتلوں کے علم لہو سے رنگے ہوئے ہیں محافظوں کے حوالے کر کے مکان اپنا جو سو رہے تھے وہ لٹ گئے ہیں وہ رو رہے ہیں حرم لہو سے ...

    مزید پڑھیے