حقیقتوں کو جو کر رہے ہیں رقم لہو سے رنگے ہوئے ہیں
حقیقتوں کو جو کر رہے ہیں رقم لہو سے رنگے ہوئے ہیں
لہو سے تحریر تر بہ تر ہے قلم لہو سے رنگے ہوئے ہیں
محبتوں کا وہ قافلہ جو وفا کے پرچم لئے ہوئے تھا
وہ ہے نشانے پہ قاتلوں کے علم لہو سے رنگے ہوئے ہیں
محافظوں کے حوالے کر کے مکان اپنا جو سو رہے تھے
وہ لٹ گئے ہیں وہ رو رہے ہیں حرم لہو سے رنگے ہوئے ہیں
قبیلے والوں کو کیا ہوا ہے سمجھ رہے ہیں اسی کو قائد
قیادتوں کے جنوں میں جس کے قدم لہو سے رنگے ہوئے ہیں
جو مہرباں تھے جو ملتفت تھے کرم نوازی تھی عام جن کی
کریم جو تھے جو کر رہے تھے کرم لہو سے رنگے ہوئے ہیں
بدن کے زخموں کو کیا گنیں ہم گلہ کریں کیا بتاؤ تم سے
یہ سب تمہاری عنایتیں ہیں جو ہم لہو سے رنگے ہوئے ہیں
صحافتوں کا سفر بھی عالم بڑا ہی مشکل بھرا سفر ہے
لہو میں بھیگے ہوئے ہیں کاغذ قلم لہو سے رنگے ہوئے ہیں