Mohammad Ishaq Afsar Afaqi

محمد اسحاق افسر آفاقی

  • 1916

محمد اسحاق افسر آفاقی کی غزل

    گلوں کو بخش کے زخموں کی تازگی میں نے

    گلوں کو بخش کے زخموں کی تازگی میں نے بہار مردہ میں اک جان ڈال دی میں نے فراق یار میں ہر سانس عمر خضر ہوئی حیات پائی ہے قسمت سے دائمی میں نے جلا کے اپنے ہی ہاتھوں سے تنکے تنکے کو مٹائی بخت نشیمن کی تیرگی میں نے نہ جانے کون سی منزل ہے دل کے پیش نظر کہ خاک عالم امکاں تو چھان لی میں ...

    مزید پڑھیے

    کشاکش سے ہستی کی دامن چھڑائیں

    کشاکش سے ہستی کی دامن چھڑائیں چلو نا اجل ہی سے رشتہ جڑائیں وہ نغمہ مرا میری لے میں سنائیں جوانی کو پر کیف و رنگیں بنائیں خدارا یہ آنکھیں نہ آنسو بہائیں کسی کی نظر سے نہ مجھ کو گرائیں سفینہ ڈبونا ہے موجوں کی فطرت تو کیا ناخدا کیا موافق ہوائیں تو خوددار بن جا اے شوق نظارہ وہ ...

    مزید پڑھیے

    ترے کرم نے وہ دیوانگی عطا کی ہے

    ترے کرم نے وہ دیوانگی عطا کی ہے کہ جس نے تیری ہی تشہیر جا بجا کی ہے ابھی سے آپ کی آنکھوں میں آ گئے آنسو ابھی تو میں نے فسانے کی ابتدا کی ہے رہے تو ہم رہے دار و رسن کے دیوانے ہمیں نے پرورش جذبۂ انا کی ہے ادا شناس محبت کو حق ہے جینے کا حیات ہے تو دل درد آشنا کی ہے جبیں کو جزو در یار ...

    مزید پڑھیے

    کسی سورج سے ہم کو رم نہیں ہے

    کسی سورج سے ہم کو رم نہیں ہے ہماری زندگی شبنم نہیں ہے سرشک غم کی حسرت چھوڑ غنچے یہ کوئی قطرۂ شبنم نہیں ہے سلامت نشتر غم کی سیاست مرا دل خوگر ماتم نہیں ہے جراحت خیز یہ رنگ تمنا یہ اک نشتر تو ہے مرہم نہیں ہے گلو جبراً ہنسو پی جاؤ آنسو یہ گلشن ہے صف ماتم نہیں ہے تلون اور پھر دست ...

    مزید پڑھیے