کسی سورج سے ہم کو رم نہیں ہے
کسی سورج سے ہم کو رم نہیں ہے
ہماری زندگی شبنم نہیں ہے
سرشک غم کی حسرت چھوڑ غنچے
یہ کوئی قطرۂ شبنم نہیں ہے
سلامت نشتر غم کی سیاست
مرا دل خوگر ماتم نہیں ہے
جراحت خیز یہ رنگ تمنا
یہ اک نشتر تو ہے مرہم نہیں ہے
گلو جبراً ہنسو پی جاؤ آنسو
یہ گلشن ہے صف ماتم نہیں ہے
تلون اور پھر دست جنوں کا
کوئی تعمیر مستحکم نہیں ہے
تمہارا غم بہر صورت ہے پیارا
ہمیں احساس بیش و کم نہیں ہے
مرے زخم جگر ناسور بن جا
تری تقدیر کا مرہم نہیں ہے
نظام عقل کی تقدیر افسرؔ
مزاج دل ابھی برہم نہیں ہے