گلوں کو بخش کے زخموں کی تازگی میں نے
گلوں کو بخش کے زخموں کی تازگی میں نے بہار مردہ میں اک جان ڈال دی میں نے فراق یار میں ہر سانس عمر خضر ہوئی حیات پائی ہے قسمت سے دائمی میں نے جلا کے اپنے ہی ہاتھوں سے تنکے تنکے کو مٹائی بخت نشیمن کی تیرگی میں نے نہ جانے کون سی منزل ہے دل کے پیش نظر کہ خاک عالم امکاں تو چھان لی میں ...