ترے کرم نے وہ دیوانگی عطا کی ہے
ترے کرم نے وہ دیوانگی عطا کی ہے
کہ جس نے تیری ہی تشہیر جا بجا کی ہے
ابھی سے آپ کی آنکھوں میں آ گئے آنسو
ابھی تو میں نے فسانے کی ابتدا کی ہے
رہے تو ہم رہے دار و رسن کے دیوانے
ہمیں نے پرورش جذبۂ انا کی ہے
ادا شناس محبت کو حق ہے جینے کا
حیات ہے تو دل درد آشنا کی ہے
جبیں کو جزو در یار کرکے چھوڑ دیا
نماز میں نے ادا کی تو یوں ادا کی ہے
حضور اپنا سفینہ نہ ڈوبتا ہرگز
یقین کیجئے سازش یہ ناخدا کی ہے
جنون سجدہ طرازی میں کس کو ہوش افسرؔ
کہاں نماز پڑھی اور کب دعا کی ہے