Mohammad Iqbal Ahmad

محمد اقبال احمد

محمد اقبال احمد کی غزل

    بنائیں ریت پہ گھر اپنا یہ امنگ نہ ہو

    بنائیں ریت پہ گھر اپنا یہ امنگ نہ ہو کہ موج آب سے ہرگز ہماری جنگ نہ ہو ستم گری یا تشدد ہمارا ڈھنگ نہ ہو یہ ہنستی کھیلتی دنیا کٹی پتنگ نہ ہو خود اپنے خون سے تہوار ہم مناتے ہیں خدا را ایسی مسرت بھری ترنگ نہ ہو گریں گی اٹھتی رہیں گی دیواریں آنگن کی دلوں کے بیچ خلش کی اگر سرنگ نہ ...

    مزید پڑھیے

    قلم کی نوک سے ایسا حصار کر لیں گے

    قلم کی نوک سے ایسا حصار کر لیں گے ہم اپنے آپ کو بھی شہریار کر لیں گے نیا ہے جوش ابھی اور نئے ارادے ہیں ہم اپنے مسئلوں کو استوار کر لیں گے اگر ہے جرم محبت زمانے والوں سے خطائیں ایسی پھر ہم بار بار کر لیں گے بس ایک بار ملاقات کا تو کر وعدہ تمام عمر ترا انتظار کر لیں گے کبھی جو ...

    مزید پڑھیے

    چمن کا پھول اگر در بدر نہیں ہوتا

    چمن کا پھول اگر در بدر نہیں ہوتا بلند مرتبہ وہ اس قدر نہیں ہوتا یہ میری ناؤ یہاں ڈوب ہی گئی ہوتی جو سطح آب سے میں باخبر نہیں ہوتا صدا اذان کی کانوں میں جو نہ آتی تو مجھے یقین طلوع سحر نہیں ہوتا بہت خراب مرا آج کا سفر ہوتا تمہارے جیسا اگر ہم سفر نہیں ہوتا جو ہاتھ پیر یہاں مارتا ...

    مزید پڑھیے

    ریشمی زلف تمہاری لگی مخمل کی طرح

    ریشمی زلف تمہاری لگی مخمل کی طرح اور یہ جسم ہے خوشبو بھرا صندل کی طرح آپ سے دوریاں برداشت نہیں ہوتی ہیں جی میں آتا ہے لپٹ کر رہوں آنچل کی طرح اک دفعہ آپ کی نظروں سے ملیں کیا نظریں بس گئیں آپ نگاہوں میں ہیں کاجل کی طرح موت ہی موت نظر آ رہی تا حد نظر سب ادائیں ہیں تمہاری کسی مقتل ...

    مزید پڑھیے

    لہو کا رنگ لیے ابر آسمان میں ہے

    لہو کا رنگ لیے ابر آسمان میں ہے برستا خون ہر اک سمت اس جہان میں ہے کھرچتا مانگ کا سیندور ہے جو شخص یہاں اسی کو دیکھیے سرکار کی امان میں ہے کبھی تو ہوگا تمہارا بھی خاتمہ ظالم فضا میں گھول کے تو زہر کس گمان میں ہے خدا کو بانٹتے جب تک رہیں گے لوگ یہاں مٹے گا فاصلہ کیسے جو درمیان ...

    مزید پڑھیے