قلم کی نوک سے ایسا حصار کر لیں گے
قلم کی نوک سے ایسا حصار کر لیں گے
ہم اپنے آپ کو بھی شہریار کر لیں گے
نیا ہے جوش ابھی اور نئے ارادے ہیں
ہم اپنے مسئلوں کو استوار کر لیں گے
اگر ہے جرم محبت زمانے والوں سے
خطائیں ایسی پھر ہم بار بار کر لیں گے
بس ایک بار ملاقات کا تو کر وعدہ
تمام عمر ترا انتظار کر لیں گے
کبھی جو ہاتھ میں تصویر تیری آئے گی
تمہاری یاد میں دل بے قرار کر لیں گے
اٹوٹ پیار ہے جن کو زبان اردو سے
ہم ان کو دوست میں اپنے شمار کر لیں گے
بلند حوصلہ اقبالؔ کا ہے دوست ابھی
خزاں کی فصل کو ہم برگ و بار کر لیں گے