چمن کا پھول اگر در بدر نہیں ہوتا
چمن کا پھول اگر در بدر نہیں ہوتا
بلند مرتبہ وہ اس قدر نہیں ہوتا
یہ میری ناؤ یہاں ڈوب ہی گئی ہوتی
جو سطح آب سے میں باخبر نہیں ہوتا
صدا اذان کی کانوں میں جو نہ آتی تو
مجھے یقین طلوع سحر نہیں ہوتا
بہت خراب مرا آج کا سفر ہوتا
تمہارے جیسا اگر ہم سفر نہیں ہوتا
جو ہاتھ پیر یہاں مارتا نہیں اقبالؔ
ہمیشہ زیر ہی رہتا زبر نہیں ہوتا