ریشمی زلف تمہاری لگی مخمل کی طرح

ریشمی زلف تمہاری لگی مخمل کی طرح
اور یہ جسم ہے خوشبو بھرا صندل کی طرح


آپ سے دوریاں برداشت نہیں ہوتی ہیں
جی میں آتا ہے لپٹ کر رہوں آنچل کی طرح


اک دفعہ آپ کی نظروں سے ملیں کیا نظریں
بس گئیں آپ نگاہوں میں ہیں کاجل کی طرح


موت ہی موت نظر آ رہی تا حد نظر
سب ادائیں ہیں تمہاری کسی مقتل کی طرح


وہ نشہ ہے کہ اب اقبالؔ اترتا ہی نہیں
ہر گھڑی سامنے رہتے ہیں وہ بوتل کی طرح