بنائیں ریت پہ گھر اپنا یہ امنگ نہ ہو
بنائیں ریت پہ گھر اپنا یہ امنگ نہ ہو کہ موج آب سے ہرگز ہماری جنگ نہ ہو ستم گری یا تشدد ہمارا ڈھنگ نہ ہو یہ ہنستی کھیلتی دنیا کٹی پتنگ نہ ہو خود اپنے خون سے تہوار ہم مناتے ہیں خدا را ایسی مسرت بھری ترنگ نہ ہو گریں گی اٹھتی رہیں گی دیواریں آنگن کی دلوں کے بیچ خلش کی اگر سرنگ نہ ...