جو شخص سارے زمانے کا رنج سہتا تھا
جو شخص سارے زمانے کا رنج سہتا تھا وہ آج راہ میں مثل غبار بیٹھا تھا یوں بت بنا وہ کھڑا تھا کہ کیا بتاؤں تمہیں میں اس کو چھونے سے پہلے خیال سمجھا تھا میں سو رہا تھا کہ وہ خواب مجھ پہ ٹوٹ پڑا میں کیسے بچ کے نکلتا کہ میں تو اندھا تھا ہزار نام تھے جو لوح دل پہ لکھے تھے مگر وہ نام کہ ...