Mohammad Azeem

محمد عظیم

محمد عظیم کی غزل

    جو شخص سارے زمانے کا رنج سہتا تھا

    جو شخص سارے زمانے کا رنج سہتا تھا وہ آج راہ میں مثل غبار بیٹھا تھا یوں بت بنا وہ کھڑا تھا کہ کیا بتاؤں تمہیں میں اس کو چھونے سے پہلے خیال سمجھا تھا میں سو رہا تھا کہ وہ خواب مجھ پہ ٹوٹ پڑا میں کیسے بچ کے نکلتا کہ میں تو اندھا تھا ہزار نام تھے جو لوح دل پہ لکھے تھے مگر وہ نام کہ ...

    مزید پڑھیے