Mohammad Azeem

محمد عظیم

محمد عظیم کی نظم

    ادھورا گیان

    بہت سے بھید ایسے ہیں جنہیں میری نظر کا دور تک پھیلا ہوا دامن ابھی تک چھو نہیں پایا بس اک بکھراؤ ہے ہر سمت خال و خط انوکھے بے جہت بے شکل جیسے سردیوں کی رات بارش اور کمرے میں سسکتے قمقمے سواد ذہن پر اک جگنوؤں کی لہلہاتی فصل کا لہراؤ سماعت کی میں کس منزل پہ ہوں گرجتے بادلوں کے لب ...

    مزید پڑھیے