ادھورا گیان
بہت سے بھید ایسے ہیں جنہیں میری نظر کا دور تک پھیلا ہوا دامن ابھی تک چھو نہیں پایا بس اک بکھراؤ ہے ہر سمت خال و خط انوکھے بے جہت بے شکل جیسے سردیوں کی رات بارش اور کمرے میں سسکتے قمقمے سواد ذہن پر اک جگنوؤں کی لہلہاتی فصل کا لہراؤ سماعت کی میں کس منزل پہ ہوں گرجتے بادلوں کے لب ...