جو شخص سارے زمانے کا رنج سہتا تھا

جو شخص سارے زمانے کا رنج سہتا تھا
وہ آج راہ میں مثل غبار بیٹھا تھا


یوں بت بنا وہ کھڑا تھا کہ کیا بتاؤں تمہیں
میں اس کو چھونے سے پہلے خیال سمجھا تھا


میں سو رہا تھا کہ وہ خواب مجھ پہ ٹوٹ پڑا
میں کیسے بچ کے نکلتا کہ میں تو اندھا تھا


ہزار نام تھے جو لوح دل پہ لکھے تھے
مگر وہ نام کہ جیسے چراغ جلتا تھا


برس رہا تھا قیامت کا ابر سر پہ مرے
مگر یہ بات عجب تھی میں پھر بھی پیاسا تھا


نہ اس نے مجھ سے کہا تھا کہ ٹھہرو رک جاؤ
نہ سنگ سرخ کو میں نے پلٹ کے دیکھا تھا


بلائے شہر مجھے ڈھونڈھتی تھی گلیوں میں
میں اپنے آپ کو گھر میں چھپائے بیٹھا تھا


ہوائے سرو نے پتھر چلائے تھے کیا کیا
ہرا بھرا وہ شجر ایک پل میں ننگا تھا


سبھی سے ملتا ہے لیکن وہ اب کسی کا نہیں
عظیمؔ تم نے بھی دیکھا کہ وہ تمہارا تھا