Mohammad Ali Shadan

محمد علی شاداں

  • 1933

محمد علی شاداں کی غزل

    میں نہ ترسوں گا کبھی ساقی جو ترسانے لگے

    میں نہ ترسوں گا کبھی ساقی جو ترسانے لگے ہاتھ کے چھالے بھی مجھ کو اب تو پیمانے لگے ترک پینا مے کیا اوروں کے غم کھانے لگے کیف بخش اب ہاتھ کے چھالے کے پیمانے لگے کل تر و تازہ تھے گلشن میں جو چہروں کے گلاب دھوپ میں فکروں کی آج آئے تو مرجھانے لگے دل کا چھالا زخم کی صورت نہ کر لے ...

    مزید پڑھیے

    یہ تمکنت یہ تکبر یہ شان رہنے دو

    یہ تمکنت یہ تکبر یہ شان رہنے دو جو ہے تمہارے بھرم کا مکان رہنے دو سوال عمر نہ پیش آئے نیک مقصد میں ارادے اپنے ہمیشہ جوان رہنے دو انہیں کو دیکھ کے پہنچے گی نسل منزل تک ہر اک قدم پہ لہو کے نشان رہنے دے ہوا کا رخ ہو موافق یہ انتظار کرو ابھی لپیٹے ہوئے بادبان رہنے دو خوشی کے ساتھ ...

    مزید پڑھیے

    جو کچھ ہے چھپی دل میں جو ذہن کے اندر ہے

    جو کچھ ہے چھپی دل میں جو ذہن کے اندر ہے وہ بات بہر صورت چہرے سے اجاگر ہے پتھر کی طرح جملے مت پھینک مری جانب بوسیدہ بہت میرے احساس کی چادر ہے لازم ہے پہن رکھیں خود اپنی حفاظت کو تلوار تعصب کی لٹکی ہوئی سر پر ہے وہ مجھ سے خیال اپنے پوشیدہ نہیں رکھتا دشمن ہی سہی لیکن احباب سے بہتر ...

    مزید پڑھیے

    ماضی کا آج دور طرب یاد آ گیا

    ماضی کا آج دور طرب یاد آ گیا اپنی تباہیوں کا سبب یاد آ گیا جب جب بھی سر اٹھانے لگا ذہن میں گناہ تب تب خدا کا قہر و غضب یاد آ گیا تضحیک اس غریب کی کرتا بھی کیسے میں مجھ کو بھی میرا دست طلب یاد آ گیا حیرت ہے دشمنوں کو مرے حال پر اگر اپنوں کا وہ کرم ہے کہ رب یاد آ گیا اب تو ادب برائے ...

    مزید پڑھیے