میں نہ ترسوں گا کبھی ساقی جو ترسانے لگے
میں نہ ترسوں گا کبھی ساقی جو ترسانے لگے ہاتھ کے چھالے بھی مجھ کو اب تو پیمانے لگے ترک پینا مے کیا اوروں کے غم کھانے لگے کیف بخش اب ہاتھ کے چھالے کے پیمانے لگے کل تر و تازہ تھے گلشن میں جو چہروں کے گلاب دھوپ میں فکروں کی آج آئے تو مرجھانے لگے دل کا چھالا زخم کی صورت نہ کر لے ...