یہ تمکنت یہ تکبر یہ شان رہنے دو

یہ تمکنت یہ تکبر یہ شان رہنے دو
جو ہے تمہارے بھرم کا مکان رہنے دو


سوال عمر نہ پیش آئے نیک مقصد میں
ارادے اپنے ہمیشہ جوان رہنے دو


انہیں کو دیکھ کے پہنچے گی نسل منزل تک
ہر اک قدم پہ لہو کے نشان رہنے دے


ہوا کا رخ ہو موافق یہ انتظار کرو
ابھی لپیٹے ہوئے بادبان رہنے دو


خوشی کے ساتھ اڑاؤ گلال سوئے فلک
مگر یہ سن لو زمیں پر امان رہنے دو


کسی کی بات سکوں کا سبب ہے اے شاداںؔ
مری زباں پہ یہ اک داستان رہنے دو