جو کچھ ہے چھپی دل میں جو ذہن کے اندر ہے
جو کچھ ہے چھپی دل میں جو ذہن کے اندر ہے
وہ بات بہر صورت چہرے سے اجاگر ہے
پتھر کی طرح جملے مت پھینک مری جانب
بوسیدہ بہت میرے احساس کی چادر ہے
لازم ہے پہن رکھیں خود اپنی حفاظت کو
تلوار تعصب کی لٹکی ہوئی سر پر ہے
وہ مجھ سے خیال اپنے پوشیدہ نہیں رکھتا
دشمن ہی سہی لیکن احباب سے بہتر ہے
تسکین کی باعث ہے پیاسے کے لئے شاداںؔ
اک بوند ہی پانی کی دریا کے برابر ہے