ماضی کا آج دور طرب یاد آ گیا
ماضی کا آج دور طرب یاد آ گیا
اپنی تباہیوں کا سبب یاد آ گیا
جب جب بھی سر اٹھانے لگا ذہن میں گناہ
تب تب خدا کا قہر و غضب یاد آ گیا
تضحیک اس غریب کی کرتا بھی کیسے میں
مجھ کو بھی میرا دست طلب یاد آ گیا
حیرت ہے دشمنوں کو مرے حال پر اگر
اپنوں کا وہ کرم ہے کہ رب یاد آ گیا
اب تو ادب برائے ادب بھی ادب نہیں
اسلاف کا وہ دور ادب یاد آ گیا