Mohammad Aleem Ismail

محمد علیم اسماعیل

نوجوان افسانہ نگاروں میں شامل

One of the younger story writers of remarkable promise

محمد علیم اسماعیل کی رباعی

    خیالی دنیا

    وہ ایک ذہین و محنتی لڑکا تھااور بڑے ہی اچھے اخلاق کا مالک تھا۔ فیس بک پر اس کے دوستوں کی تعداد ہزاروں میں تھی ، اتنے ہی فالورز ٹویٹر پر تھے اور واٹس اپ کانٹیک بھی کچھ کم نہیں تھے۔ وہ ہمیشہ آن لائن رہتا، ہر کسی کی فرینڈ رکوسٹ قبول کرتا ، کبھی کسی کو بلاک نہیں کرتا،کسی کا دل دکھے ...

    مزید پڑھیے

    قربان

    ننھی ننھی معصوم آنکھوں میں آنسو لیے رانی دروازے کو تکے جا رہی تھی اس کو معلوم تھا کہ چاہے وہ کتنی ہی منت کرے مگر دادی کے ڈر سے کوئی بھی اسے اسپتال لے کر نہیں جائے گا۔ وہ بڑی بے صبری سے ہر اُس شخص کا انتظار کرتی جو اسپتال سے آنے والا ہوتا۔ سہیل سے رانی بہت ہی پیار کرتی تھی حالانکہ ...

    مزید پڑھیے

    الجھن

    رات کا آخری پہر تھا اور میں گہری نیند میں تھا۔ کسی نے میرا ہاتھ پکڑ کر اٹھایا اور آنگن میں لے آیا۔ گھر کے آنگن میں بہت ساری قبریں ابھر آئی تھیں اور عجیب سی ڈراؤنی آوازیں کانوں کے پردوں سے ٹکرا رہی تھیں۔ محسوس ہورہا تھا اگر یہ آوازیں بند نہ ہوئی تو کانوں کے پردے پھٹ جائیں گے۔ میں ...

    مزید پڑھیے

    تاک جھانک

    وہ اپنی تمناؤں کو سینے میں دبا کر آخر کب تک رکھتا۔اس کا بھی دل چاہتا دوسرے بچوں کی طرح اس کے پاس بھی اچھا اور نیا بستہ ہو ،نئے جوتے اوراچھا یونیفارم ہو۔اگرچہ وہ ابھی لڑکپن میں ہی تھا مگر اپنی غریبی اور گھر کے نا گفتہ بہ حالات کو بخوبی سمجھتا تھا ۔حالات سے سمجھوتا کرنا اور اپنی ...

    مزید پڑھیے

    خوف ارواح

    خوف ارواح اسے یاد ہے۔ وہ رات بہت بھاری ہو گئی تھی،جب وہ شہر سے اپنے گاؤں جا رہا تھا۔ رات کے گیارہ بج گئے تھے اور وہ پیدل چل رہا تھا ۔ چاروں طرف سیاہ تاریکی چھائی ہوئی تھی ۔ اندھیرے میں جب وہ وہاں سے گزر رہا تھا نجانے کیسی کیسی آوازیں اس کے کانوں میں پارہ بھر رہی تھیں ۔ اُن آوازوں ...

    مزید پڑھیے

    مَٹھّا

    ’’کتنی دفعہ سمجھایا تمھیں ۔ کیا کمی چھوڑی تھی میں نے۔ جی جان سے تمھیں پڑھاتاہوں۔ دو سوالات کے جواب نہیں دے سکتے۔ اسکول میں پڑھنے آتے ہو یا ٹائم پاس کرنے۔۔۔مٹھا کہیں کے۔۔۔‘‘ اس روز ان تینو ں پر میں گرج دار آواز میں خوب چلایا کیوں کہ وہ میرے سوالات کے جوابات دے نہیں پائے ...

    مزید پڑھیے

    شوکت پہ زوال

    آج فرحان خان تذبذب میں تھے ۔ وہ بڑے پریشان نظر آرہے تھے۔ کوئی فکر ان کو اندر ہی اندر کھائے جا رہی تھی۔گھر کے آنگن میں ایک کونے سے دوسرے کونے تک ٹہلتے جاتے تھے۔کچھ دیر رکتے پھر بیٹھ جاتے ۔کبھی پانی پیتے اور پھر سے ٹہلنے لگتے۔ جب انھیں کسی طرح بھی سکون نہ حاصل ہوا تو اپنے دونوں ...

    مزید پڑھیے

    انتظار

    پریشاں ہو چکا میرا وجود پریشانی کے لق دق صحرامیں چلنے کے لیے مجبور تھا۔ لیکن ہر منزل پر سراب ہی سراب دکھائی دیتاتھا۔میں اذیت سے گھرا گھر کی جانب قدم بڑھائے جا رہا تھا۔زمین کا سینہ چیر کر اس میں سما جانے کو دل چاہ رہا تھا۔ اب تک استقلال کا دامن ہاتھ سے چھوٹا نہیں تھا لیکن اب پائے ...

    مزید پڑھیے

    خطا

    یہ میرے ہاتھ قلم و قرطاس کی جانب کیوں بڑھ رہے ہیں۔ رہ رہ کر چند لکیریں تحریر کرنے کی خواہش میرے باطن میں یوں انگڑائیاں لے رہی ہے جیسے بنا پانی کے مچھلیاں پھڑ پھڑاتی ہو۔ یوں محسوس ہو رہا ہے جیسے میں نے آج کچھ تخلیق نہ کی تو میرا سینہ پھٹ جائے گا۔ ایک ان دیکھی قوت نے مجھے ڈھکیل کر ...

    مزید پڑھیے

    وفا

    باپ بیٹے میں آج پھر توتو میں میں ہو گئی تھی۔بیٹے نے کہا ’’آپ ہماری زندگی کو اور جہنم کیوں بنا رہے ہیں ۔ آپ ہم کو اکیلا چھوڑ کیوں نہیں دیتے۔‘‘باپ کی آنکھیں ڈبڈبا گئیں ،اور بھررائی آواز میں کہا ’’جب سب کی پریشانی کی وجہ میں ہوں تو میں اس گھر میں کر کیا رہا ہوں؟۔بیٹا۔۔۔ میں ...

    مزید پڑھیے
صفحہ 1 سے 2