الجھن

رات کا آخری پہر تھا اور میں گہری نیند میں تھا۔ کسی نے میرا ہاتھ پکڑ کر اٹھایا اور آنگن میں لے آیا۔ گھر کے آنگن میں بہت ساری قبریں ابھر آئی تھیں اور عجیب سی ڈراؤنی آوازیں کانوں کے پردوں سے ٹکرا رہی تھیں۔ محسوس ہورہا تھا اگر یہ آوازیں بند نہ ہوئی تو کانوں کے پردے پھٹ جائیں گے۔ میں نے دونوں ہاتھوں سے اپنے کانوں کو بند کر لیا۔ لیکن آوازیں اب بھی آرہی تھیں جیسے کسی گہرے کنویں سے آرہی ہوں جو ایک دوسرے میں خلط ملط ہو گئی تھیں۔ میں چیخنے لگا، چلانے لگا، گھر کے افراد کو مدد کے لیے پکارنے لگا۔ پر سبھی گہری نیند میں سو رہے تھے۔ میں گھر سے باہر نکل آگیا۔ دھیرے دھیرے آوازیں دور ہوتی گئیں اور ایک سکون فضا میں پھیلتا چلا گیا۔ میں نے چین کی سانس لی۔ چیخ و پکار سناٹے میں تبدیل ہوتی چلی گئی اور وہ آوازیں بالکل بند ہوگئی تھیں۔
اب میں اکیلا ایک سنسان راستے پر چل رہا تھا۔ ٹَک ٹَک جوتوں کی آواز میرے ساتھ ساتھ چل رہی تھی۔ یہ آواز بڑی بھلی معلوم ہو رہی تھی۔ پھر اچانک میں نے اپنے پیروں کی طرف دیکھا۔ پیروں میں کچھ بھی نہیں تھا۔ میں ننگے پیر تھا۔ اب دل زور زور سے دھڑکنے لگا۔ میں نے اپنی رفتار تیز کردی۔ جو آواز اب تک بھلی معلوم ہو رہی تھی اسی آواز سے اب ڈر لگ رہا تھا۔ میں نے اپنے سائے کو دیکھا۔سر، ہاتھ اور پاؤں کا سایہ کسی بھیڑیے کی طرح نظر آرہا تھا۔ یہ دیکھ کر ڈر دبے پاؤں رگ رگ میں گھس آیا تھا۔ مجھے اس بات کا احساس ہوا کہ میں دھیرے دھیرے بھیڑیاں بنتا جارہا ہوں اور میرا جسم تیزی سے تبدیل ہو رہا ہے۔ چلتے چلتے شدید گرمی کا احساس ہوا تب میں نے اپنی قمیض اتار پھیکی۔ میں نے دیکھا، میرے سینے پر ایک بڑا سا کالا داغ تھا۔ میں سوچ میں پڑ گیا، یہ داغ آیا کیسے؟ ٹَک ٹَک کی آواز پیچھا کرتے ہوئے ساتھ ساتھ چل رہی تھی۔ تب تھوڑا مڑ کر دیکھا پر دور دور تک کوئی دکھائی نہیں دیا۔ میں تیز چلنا چاہتا تھا لیکن اور زیادہ تیز چلا نہیں جا رہا تھا۔ ہانپتے ہانپتے برا حال ہو گیا تھا لیکن میں رک بھی نہیں سکتا تھا۔ راستہ صاف نظر نہیں آرہا تھا کیوں کہ فضا میں دھند گہری تھی۔
ضمیر کہہ رہا تھا رک کر تھوڑا آرام کر لے۔ نفس کہہ رہا تھا اب رکنا مناسب نہیں۔ ضمیر اور نفس کی کشمکش میں کچھ سمجھ میں نہیں آرہا تھا کہ کیا جائے۔ چلتے چلتے میں تھک گیا تھا۔ اور ٹَک ٹَک کی آواز تیز رفتاری سے برابر پیچھا کر رہی تھی۔ اب چلا بھی نہیں جارہا تھا۔ پھر یوں محسوس ہوا، وہ آواز بالکل قریب آگئی ہو اور اب پکڑ ہی لے گی۔ میں نے ہمت کر کے اپنی رفتار بڑھائی اور پوری قوت کے ساتھ بھاگنے لگا۔ ٹَک ٹَک کی آواز تیز ہوتی گئی۔ میں بھاگتا گیا اور آواز بڑھتی گئی۔ دم گھٹنے لگا تھا۔ میں گھبرا گیا اور ہڑبڑا کے اٹھا،آنکھیں کھولی تو الارم میں ٹِک ٹِک کی آواز شور مچا رہی تھی۔
ہر روز جیسے جیسے رات کی تاریکی اجالے کو نگلنے لگتی ویسے ویسے میرے دل کی دھڑ کنیں تیز ہوجاتیں ۔ جاگ جا گ کر کئی راتیں گزر چکی تھیں ۔۔۔رہ رہ کرکانوں میں سیٹیاں بجتیں ۔۔۔سر کبھی ہلکا تو کبھی بھاری لگتا۔۔۔ایک پہاڑ کی مانند نہ کٹنے والا وقت ۔۔۔ بے چینی اور الجھن کا سایہ میرے وجود پر محیط ہو گیا ۔ ۔۔ میری زندگی بد تر بن گئی تھی۔اب یاد نہیں رہا تھا کہ میٹھی نیند کا مزہ میں نے کب چکھا تھا۔
پھر دوسرے روز سانسیں پھولنے لگی تھیں ،دم گھٹتاجا رہا تھا ،کوئی میرے سینے پر سوار ہو گیا تھا۔میں اٹھنا چاہتا اور سینے پر سوار شخص کو ڈھکیلنا چاہتا تھا لیکن میرے ہاتھ پیروں نے حرکت کرنا بند کر دی تھی۔بس ابھی تھوڑی دیر پہلے ہی تو میں سویا تھا،نیند کا غلبہ تھوڑا گہرا کیا ہوا کوئی قوت میرے اوپر حاوی ہو گئی ۔میں زور زور سے بیوی کو آواز دینے کی کوشش کر رہا تھا’’ مجھے جگاؤ ،مجھے اٹھاؤ نہیں تو میرا دم نکل جائے گا‘‘ لیکن میرے منہ سے آواز ہی نہیں نکل رہی تھی۔جب میں نے اس شخص کا چہرہ دیکھا جو میری سانسوں کا دشمن بنا ہوا ہے تو میرے ہوش اڑ گئے ،حوا س معطل ہوگئے اور پیروں کے نیچے سے زمین کھسک گئی۔۔۔ یہ تو میرا ہی چھوٹا بھائی ہے جو اب اس دنیا میں نہیں رہا۔میں کچھ دعائیں پڑھنا چاہتا تھا لیکن میری زبان سے ایک لفظ بھی ادا نہیں ہو رہا تھا۔ مانو میری سانسیں اب اکھڑنے ہی والی تھیں کہ اچانک میری آنکھ کھل گئی اور میں نے پایا کہ میں ہانپ رہا تھا،سانسیں تھک چکی تھیں،سینہ پھڑ پھڑا رہا تھااور یوں محسوس ہوا کہ موت چھوکر چلی گئی ہو۔ایک انجانا خوف میرے اوپر راج کر نے لگا اور ڈر دبے پاؤں چل کر میرے وجود میں بھر گیاتھا۔ایک لمحے کے لیے بھی آنکھیں بند کر لینا اب مجھے ہیبت ناک نظر آرہا تھا۔تاریک و سنسان سرد رات میں تنہا اپنے وجود کو لیے خود کے قدموں کی پیمائش کی چاپ سنتے ہوئیمیں گھر کے آنگن میں چلا آیا تھا،میں آیا نہیں کوئی قوت مجھے یہاں لائی تھی۔ کوئی اندیکھی طاقت میرے قدموں کو کھینچ رہی تھی۔
وہ میرا چھوٹا بھائی جسے میں بہت پیار کرتا تھا۔اپنے ہاتھوں سے اسے کھانا کھلاتا ، میلے میں لے جاتا۔لیکن اب وہ مجھے مارنا چاہتا ہے اور اپنے پاس بلانا چاہتا ہے۔میری شادی سے پہلے کا ذکر ہے ایک دفعہ اس کے پیر میں چوٹ آئی گئی تھی،خون بہت بہہ رہاتھا ۔اس کی تکلیف برداشت کے باہر تھی اور کوئی رکشہ بھی نہیں مل رہا تھا۔ا پنے کاندھوں پر لیے تیز قدموں سے چلتا ہوا میں اسپتال پہنچا لیکن ڈاکٹر کی بے توجہی اور علاج میں ہوتی دیری نے اس کی تکلیف میں شدید اضافہ کر دیا تھا۔مجھے کچھ سمجھ نہیں آرہا تھا ،میں نے ڈاکٹر کا گریباں پکڑ لیا ،ڈاکٹر نے گھبرا کر نرس کو آواز دی ، اسے سٹریچر پر ڈال کر اندر لے گئے اور ضروری علاج کیا۔اور وہ جلد صحت یاب ہو گیا تھا۔
میری شادی کو اٹھارہ مہینے ہو گئے تھے اور اس کی شادی ہونے صرف چار دن ہی باقی تھے۔وہ اپنی شادی کو لے کر بہت خوش تھالیکن شادی سے چار دن پہلے ہی چل بسا۔ گھر میں کسی بات کی کمی نہ تھی ،بڑا سا گھر ،40 ایکڑ باغاتی زمین اور دو ہی بھائی ۔ دونوں ایک دوسرے پر جان نچھاور کرتے ،ایک دوسرے کا دکھ دیکھ کر تڑپ اٹھتے ،دونوں کی پسند ایک جیسی تھی اور اپنی پسندیدہ ہر چیز ایک دوسرے کو دے دینے پر آمادہ رہتے تھے۔ دونوں سائے کی طرح ایک دوسرے کے ساتھ رہتے تھے۔
ایک روز جب میں نے اخبار میں وہ خبر پڑھی تورہی سہی نیند بھی غائب ہو گئی اور میں گہری سوچ میں ڈوب گیا،سر چکرا رہا تھا، سانس لینے میں دشواری ہو رہی تھی،آنکھوں میں اندھیرا چھا رہا تھااور بوجھل قدموں سے چلنا بھی دشوار ہو گیا تھا۔وہ خبر۔۔۔ ’’ اپنے بھائی کو نہایت ہی عزیزرکھنے والے ایک شخص نے زمین کی لالچ میں اسی بھائی کا قتل کر کے گھر کے آنگن میں دفن کردیا تھا۔ آج اس راز کا پردہ فاش ۔۔۔قاتل کو پھانسی کی سزا‘‘ اور ایک خو ف تیزی سے میرا پیچھا کر نے لگا ۔ہر وقت یہی سوچ اور کبھی نہ ختم ہونے والی الجھن ’’ کیا میں بھی پکڑا جاؤں گا۔۔۔کیا مجھے بھی پھانسی ہوگی؟‘‘