تاک جھانک
وہ اپنی تمناؤں کو سینے میں دبا کر آخر کب تک رکھتا۔اس کا بھی دل چاہتا دوسرے بچوں کی طرح اس کے پاس بھی اچھا اور نیا بستہ ہو ،نئے جوتے اوراچھا یونیفارم ہو۔اگرچہ وہ ابھی لڑکپن میں ہی تھا مگر اپنی غریبی اور گھر کے نا گفتہ بہ حالات کو بخوبی سمجھتا تھا ۔حالات سے سمجھوتا کرنا اور اپنی خواہشات کا گلاگھونٹنا اس نے سیکھ لیا تھا۔جب اس سے صبر کا باندھ سنبھالا نہیں جاتا تب وہ امی کو بڑی خاموشی سے اپنی بات بتاتاااور کسی چیز کی طلب کرتا تو امی اسے سمجھانے لگتیں یہ سب چیزیں پھر کبھی لیں گے ،دوسرے ہی پل سوچنے لگتیں جب میرے بچے کا لڑکپن ہی نہیں رہے گا دل میں تڑپ اور خواہش ہی نہیں رہے گی تو یہ سب چیز یں اس کے کس کام کی ۔۔۔ اس کے دل و دماغ میں خواہشات سے لبریز شکایتیں خوب سر پٹختی تھیں لیکن وہ انھیں جلد زبان تک نہیں لاتا تھا۔ جب اسکول میں بچوں نے اس کا مذاق اڑانا شروع کیا تو اس نے اپنی امی سے کہا ’’ مجھے نیا بستہ چاہیے،اسکول کے بچے کہتے ہیں کہ میرے بستے سے کتابیں تاک جھانک کرتی ہیں۔‘‘
’’ بیٹا ابھی تمہارے ابو کام کی تلاش میں باہر گئے ہیں،شام کو جب گھر آئیں گے تو میں ان سے تمہارے بستے کے متعلق بات کروں گی اور ہم آپ کے لیے نیا بستہ ،نئے جوتے اور نیا ڈریس لے آئیں گے۔‘‘ وہ اپنی امی کی با ت سن کر خوشی سے اچھل پڑا اور کھیل کود میں مشغول ہو گیا۔
شام کے وقت جب دانیال کے ابو گھر آئے تو اُن کا اداس چہرا چیخ چیخ کر یہ کہہ رہا تھا ،آج بھی کوئی کام نہیں ملا۔ایک ایک کرکے تمام زیورات بک گئے تھے۔اب گھر میں کوئی ایسی چیز بھی نہیں تھی جو بک سکتی تھی۔ گھر میں ایک بکری تھی جو پہلے ہی اس مفلسی کی بھینٹ چڑ ھ چکی تھی۔جس شخص کے گھر میں مفلسی ننگا ناچ رہی ہو اور قرض خواہ ہر وقت دروازے پر دستک دے رہے ہو ں وہ شخص اور کر بھی کیا سکتا تھا۔دانیال کے ابو ایک پڑھے لکھے انسان تھے لیکن گاؤں میں سوائے مزدوری کے کوئی دوسرا کام ملتا ہی نہیں تھا۔
’’ سنو جی ۔۔۔ کئی بار سینے کے بعد بھی دانیال کا بستہ بہت پھٹ چکا ہے ،جوتوں کی حالت بھی بہت خستہ ہوگئی ہے ۔ میں سوچ رہی ہوں ہم اس کے لیے ایک نیا بستہ ،جوتے اور ڈریس بھی خرید لیں گے۔‘‘دانیال کی امی نے ڈرتے ڈرتے دھیمے لہجے میں اپنے دل کی بات رکھی ۔
’’دیکھوں ۔۔۔ تم اچھی طرح جانتی ہو میں جہاں کام کرتا تھا مالک نے نکال دیا ۔وہ کہتا ہے کہ میں بہت کمزور ہو چکا ہوں ،اب مجھ سے وز نی بوجھ اٹھایا نہیں جاتا۔ہم نے جن کا کھیت ٹھوکے (کرائے)پر لیا ہے وہ ایڈوانس مانگ رہے ہیں۔تین دن پہلے چھوٹے بھائی سے جو رقم لی تھی اب وہ ختم ہو رہی ہے۔ایک ایک کر کے تمہارے تمام زیور بک گئے ہیں۔میرے دوست احباب اور میرے سگے بھائی جب میری پریشانیوں کو دیکھتے تو میرے ہاتھ میں کچھ نہ کچھ تھما دیتے تھے لیکن اب وہ مجھے دیکھ کر راستہ بدلنے لگے ہیں۔آخر کب تک کسی کی پھیلی ہوئی ہتھیلی کو بھرا جا سکتا ہے۔‘‘زندگی کی بازی ہارے ہوئے شخص کی طرح انھوں نے اپنی بیوی کو بات سمجھائی۔
دانیال کی امی سمجھ گئیں وہ کچھ بھی خرید نے کے موڈ(mood) میں نہیں ہیں اس لیے وہ دانیال کو سمجھانے کی ناکام کوشش کرتی رہیں،اور دانیال خاموشی سے ماں کی طرف دیکھتا رہا۔دانیال کی ماں نے جب اس کے پھٹے ہوئے بستے ،پرانے جوتے اور ڈریس کی بات اپنے بھائی سے کی تو بھائی نے کہا’’ایسی بات ہے تو دانیال کو یہ سب میں دلا دیتا ہوں۔‘‘
یہ سن کر وہ بہت خوش ہوا ،ماموں جان اسے نیا بستہ دلانے والے ہیں ،لیکن نجانے کس طرح یہ بات ممانی کو معلوم ہو گئی ،ماموں جان کے گھر ایک تماشا ہو گیا،اور اسے نیا بستہ نہیں مل سکا۔ وہ پھر سے اداس ہو گیاتھا۔ اس کے بے تاب سینے میں سلگتی ہوئی خوشی کی پھلجھڑیاں ماند ہو گئی تھیں۔امید کی ایک کرن اور اس کے بعد مایوسی اس کا مقدر بن گئی تھی ۔ وہ روز انہ ا پنا پھٹا ہوا بستہ لے کر اسکول جاتا،جس سے کتابیں جھانکتی رہتیں ۔اس بات کو لے کر اس کے دوست اس کا خوب مذا ق اڑاتے ۔
ایک دن وہ اسکول سے خوشی خوشی اُچھلتے کودتے گھر آیاتو ماں نے پوچھا ’’کیا بات ہے آج بہت خوش ہو۔‘‘
’’ پتا ہے آج ہمارے اسکول میں اسکول کے چیئر مین صاحب آئے تھے ۔۔۔ انھوں نے ہم سے بہت سی باتیں کیں ،بہت سے سوالات پوچھے اور جن سوالات میں بچے کمزور تھے ان کی مشق کرانے کی ہمارے ٹیچر کو ہدایت کی۔۔۔ اور آخر میں انھوں نے ہم سے کہا ’’ کل ہمارے اسکول میں ایک پروگرام ہے۔جس میں منسٹر صاحب شریک ہوں گے اور ہم ان کے ہاتھوں سب بچوں کو ایک نیابستہ اور نیا ڈریس دیں گے اور ہاں انھوں نے یہ بھی کہا ہے کہ ہم لوگوں کو تمام سوالات یاد کر کے اسکول آنا ہے۔
وہ ماں جس نے قدم قدم پر اپنی خوشیوں کی قربانیاں دی تھیں،جو اپنے بچوں کو دنیا کی ہر خوشی دینا چاہتی تھیں،جو اپنے حصے کا بھی بچوں کو کھلادیتیں اور خود بھوکا سوجاتیں ۔اس ماں نے جب یہ سنا تو اس کے چہرے پر بھی خوشی پھیل گئی ،آنکھوں میں چمک آ گئی ، ایک درد بھری خوشی سینے میں اٹھی اوربدن کا کرب قطرہ قطرہ ہو کر آنکھوں کے راستے ٹپ ٹپ برسنے لگا۔
’’ ماں ۔۔۔ چیئر مین صاحب کتنے بھلے انسان ہیں نا‘‘
’’ ہاں بیٹا ۔۔۔ اللہ ان کو اور ترقی دے‘‘
کل نیا بستہ اور نیا ڈریس ملنے والا ہے، اس خوشی میں دانیال کو رات بھر نیند بھی نہیں آئی ۔ وہ رات بھر نیا بستہ اور نیا ڈریس کے متعلق سوچتا اور من ہی من خوش ہوتا ۔ پھر اس نے سوچا اب سوجانا چاہیے ورنہ نیند کا خمار آنکھوں میں باقی رہنے کی وجہ سے کل صبح کو ئی پریشانی نہ ہو جائے۔لیکن ایک عجیب سی خوشی جو اس کے سینے میں پھڑ پھڑا رہی تھی اس خوشی کے مارے اس کی آنکھیں جھپکنا ہی بھول گئی تھیں ۔
رات اس پر بڑی بے رحم ہو گئی تھی جو جلد کٹنے کا نام ہی نہیں لے رہی تھی۔صبح ہوئی وہ جلدی جلدی تیار ہوکر وقت سے ایک گھنٹہ قبل ہی اسکول پہنچ گیا۔دھیرے دھیرے وقت گزرنے لگا اور ایک ایک کر کے بچے اسکول آنے لگے۔میدان میں دعا ہوئی اور دعا کے بعدتمام بچے اپنے اپنے کمرہء جماعت میں بیٹھ گئے۔
انتظار کی گھڑیاں ختم ہوئیں اور وہ وقت بھی آ پہنچا جب اس کے ہاتھوں میں نیا بستہ تھا۔اس نے فوراََ اپنی تمام کتابیں نئے بستے میں منتقل کر دیں۔منسٹر صاحب آئے اور چلے بھی گئے لیکن اس کی خوشی کا کوئی ٹھکا نا نہیں رہا تھا۔خوشی کی پھلجھڑیاں پھر انگڑائیاں لینے لگی تھیں اور اس کے ذہن کے اسکرین پر کئی مناظر ابھر نے لگے ۔وہ سوچنے لگا جب امی کو نیا نویلا بستہ دکھاؤں گا تو وہ کتنا خوش ہوں گی۔اب اس کے پاؤ زمین پر نہیں ٹھہرتے تھے ،وہ پنکھ لگا کر اڑ جانا چاہتا تھا اور جلد گھر پہنچ کر امی کو بستہ دکھانا چاہتا تھا۔جلد گھر پہنچنے کی خواہش رہ رہ کر اس کے دل میں مچل رہی تھی۔اس کی آنکھیں چمک اٹھی تھیں ،چہرا کھل گیاتھا،وہ ہر لمحہ چہک اٹھتا اور اچھل پڑتا۔وہ اپنے انگ انگ سے اٹھتی لہروں کو چھٹی ہو نے تک دبا دینا چاہتا تھا۔رفتہ رفتہ وہ وقت بھی آگیا جب چھٹی ہونے میں چند لمحات باقی تھے۔
اسی وقت صدر مدرس صاحب نے مائک ہاتھ میں پکڑا اور جو کچھ کہا وہ سن کر اسے اپنے کانوں پر بھروسا نہیں ہوا۔وہ اپنی جگہ پر ایک پتھر کی مورت بنا چپ چاپ کھڑا رہا، کچھ لمحے بیت جانے کے بعد اس نے اپنے سامنے کھڑے لڑکے سے پوچھا کہ’ ’ صدر مدرس صاحب نے کیا کہا؟‘‘
اس لڑکے نے بتایا کہ صدر مدرس نے کہا’’بچوں!۔۔۔ یہ تمام بستے منسٹر صاحب کے آنے کی وجہ سے کرائے پر لائے گئے تھے۔ اب تم سب بستے واپس کر دو۔‘‘
یہ سننا تھا کہ وہ پھر اداس ہو گیا تھا۔اور تمام بچوں کی طرح اس نے بھی اپنی تمام کتابیں نئے بستے سے پرانے پھٹے ہوئے بستے میں منتقل کر دیں اور بستہ واپس کردیا۔ اس پر ایک طرح کی بد حواسی طاری ہو گئی تھی۔اسی بد حواسی میں گم سم وہ خیالات میں کھویا ہوا سڑک پار کررہاتھاسامنے سے آنے والی ایک تیزرفتار کار نے اسے اڑا دیا۔دوسرے لمحے خون میں لت پت اس کی لاش سڑک پر پڑی تھی اور کچھ کتابیں بستے سے باہر نکل کر آس پاس بکھر گئی تھیں جیسے اردگرد جمع ہو کر اس کی موت کا ماتم کر رہی ہواور کچھ بستے میں ہی سے سڑک کی جانب تا ک جھانک کر رہی تھیں،جہاں سے کچھ دیر قبل منسٹر صاحب کا قافلہ ہارن بجاتا ہوا گزراتھا۔ یاخدا ! یہ غریبوں کے بچے بھی تو بچے ہی ہوتے ہیں ۔۔۔پھر انھیں دکھوں کے نجانے کتنے سمندر پار کرنے پڑتے ہیں۔