Mohammad Ahmad Ramz

محمد احمد رمز

نئی غزل کے ممتاز شاعر

Prominent New Ghazal poet

محمد احمد رمز کی غزل

    خوب ہے عشوہ یہ اس کا یہ اشارت اس کی

    خوب ہے عشوہ یہ اس کا یہ اشارت اس کی میرے ہاتھوں کی لکیریں ہیں عبارت اس کی وصل کی رات کے اک آخری موتی کی طرح خواب بنتی ہوئی آنکھوں میں بشارت اس کی اس کے دامن پہ نہیں پڑتے لہو کے دھبے تیغ اٹھائے وہ تو پھر دیکھو مہارت اس کی خام اشیا کی طرح بکھرا پڑا ہے سر راہ زیر تعمیر تماشا ہے ...

    مزید پڑھیے

    یہ زاد راہ کسی مرحلے میں رکھ دینا

    یہ زاد راہ کسی مرحلے میں رکھ دینا کوئی گلاب مرے راستے میں رکھ دینا جو بحث چاہئے فن پر تو استعارہ کوئی کسی ردیف کسی قافیے میں رکھ دینا جو نقش نقش محبت تھا مٹ چکا دل سے چراغ اب یہ کسی طاقچے میں رکھ دینا گزار لوں گا کسی طرح ہجر کی راتیں کوئی کہانی مرے حافظے میں رکھ دینا بغور ...

    مزید پڑھیے

    سلگنے راکھ ہو جانے کا ڈر کیوں لگ رہا ہے

    سلگنے راکھ ہو جانے کا ڈر کیوں لگ رہا ہے دہکتی آگ سا گردن پہ سر کیوں لگ رہا ہے لہو سے آبیاری کرنے والو کچھ تو سوچو یہ سارا باغ بے برگ و ثمر کیوں لگ رہا ہے پرند فکر پر ہیں سخت کیوں اس کی اڑانیں مسافر آج بے سمت و سفر کیوں لگ رہا ہے یہ کس خواہش کا مد و جزر ہیں میری نگاہیں مجھے سارا ...

    مزید پڑھیے

    ڈوبنا ہے اس سے یہ اقرار کر لینا مرا

    ڈوبنا ہے اس سے یہ اقرار کر لینا مرا پھر بہ آسانی سمندر پار کر لینا مرا کون پوچھے مجھ سے میری گوشہ گیری کا سبب کون سمجھے در کبھی دیوار کر لینا مرا ایک خوشبو بن کے گزرے سر سے سارے گرم و سرد اس کا چہرہ تھامنا اور پیار کر لینا مرا بن گیا لوگوں کی شان کج کلاہی کا سوال اپنے سر کو لائق ...

    مزید پڑھیے

    پھر اک تیر سنبھالا اس نے مجھ پہ نظر ڈالی

    پھر اک تیر سنبھالا اس نے مجھ پہ نظر ڈالی آخری نیکی تھی ترکش میں وہ بھی کر ڈالی ٹھہرو یہیں اے قافلے والو آیا دشت بلا اس نے یہ کہہ کے اپنے سر پر خاک سفر ڈالی اور کوئی دنیا ہے تیری جس کی کھوج کروں ذہن میں پھر اک سمت بکھیری راہ گزر ڈالی ہاتھ ہوا کے بڑھنے لگے ہیں بستی کے اطراف دیکھو ...

    مزید پڑھیے

    یہ بھی کوئی بات کہ صرف تماشا کر

    یہ بھی کوئی بات کہ صرف تماشا کر بیچ رہا ہوں جنس دل و جاں سودا کر میری خلوت کچھ ہنگامے رکھتی ہے اور بھی لوگ آتے ہیں تو بھی آیا کر اپنی نسبت کا اعزاز نہ مجھ سے چھین جتنا جی چاہے تو مجھ کو رسوا کر تجھ کو اپنے ساتھ ڈبونے والا میں میرے لیے ایک ایک سے تو مت الجھا کر میں بھی دیکھوں تیر ...

    مزید پڑھیے

    کیا اب مری کہانی میں

    کیا اب مری کہانی میں میں ہوں گلے تک پانی میں جیسے میں شامل ہی نہیں اپنی سر و سامانی میں میری طرح ٹھہرے گا کون سیل حرف و معانی میں رکھو مجھے اک تنکے پر دیکھو مجھے طغیانی میں اک آئینہ توڑو اور ڈالو مجھے حیرانی میں اک کھنڈر ہوں یادوں کا جھانکو مری ویرانی میں بے پایاں بے حد و ...

    مزید پڑھیے

    لفظ و بیاں کے پس منظر تک اک قوس امکانی اور

    لفظ و بیاں کے پس منظر تک اک قوس امکانی اور میری جست ہنر کو لکھ دے کوئی سمت معانی اور بست و کشاد بازد کیا ہے سانسوں کی ہلچل کے سوا چاند گھرا ہو جب موجوں میں بڑھتی ہے طغیانی اور سحر سواد بحر و بر سے کتنے طوفاں ابھرتے ہیں اب اس شورش آب و گل کو مٹی اور نہ پانی اور دشت نوا پر چھا جائے ...

    مزید پڑھیے

    اب وہ موڑ آیا کہ ہر پل معتبر ہونے کو ہے

    اب وہ موڑ آیا کہ ہر پل معتبر ہونے کو ہے دیکھنا منظر نیا دیوار در ہونے کو ہے اب لہو کا رنگ گہرا ہے مری تصویر میں ایسا لگتا ہے کہ قصہ مختصر ہونے کو ہے اڑ چلی ہے ہر طرف دامن میں بھر لینے کی بات قطرہ قطرہ اس کے دریا کا گہر ہونے کو ہے میں بھی دیکھوں مجھ کو منظر سے ہٹا دینے کے بعد اب ...

    مزید پڑھیے

    اک گہری چپ اندر اندر روح میں اتری جائے

    اک گہری چپ اندر اندر روح میں اتری جائے لا فانی ہو جاؤں یہ خواہش پل پل بڑھتی جائے یہ پتھر سی تنہائی یہ بھاری بوجھل رات جانے کیسا بوجھ ہے دل پر نس نس ٹوٹی جائے ایک نیا ان دیکھا منظر مجھ سے کرے کلام ایک نئی انجانی خوشبو مجھ سے لپٹی جائے اس کا ساتھ اک الجھی ڈور ہے بھاگتے لمحوں ...

    مزید پڑھیے
صفحہ 3 سے 4