خوب ہے عشوہ یہ اس کا یہ اشارت اس کی
خوب ہے عشوہ یہ اس کا یہ اشارت اس کی میرے ہاتھوں کی لکیریں ہیں عبارت اس کی وصل کی رات کے اک آخری موتی کی طرح خواب بنتی ہوئی آنکھوں میں بشارت اس کی اس کے دامن پہ نہیں پڑتے لہو کے دھبے تیغ اٹھائے وہ تو پھر دیکھو مہارت اس کی خام اشیا کی طرح بکھرا پڑا ہے سر راہ زیر تعمیر تماشا ہے ...