Mirza Rafeeq Shakir

مرزا رفیق شاکر

  • 1943 - 2013

مرزا رفیق شاکر کی غزل

    جس کی دنیا میں سبھی کچھ ہے سوائے کانٹے

    جس کی دنیا میں سبھی کچھ ہے سوائے کانٹے پھول کے ساتھ وہ جوڑے میں لگائے کانٹے زندگی میں مجھے ہر دور میں بھائے کانٹے جب بھی آئے مرے دامن میں تو آئے کانٹے عیش و عشرت میں بھی ذہنوں میں بسائے کانٹے یوں سمجھ لو کہ جہنم سے بچائے کانٹے مجھ کو دشمن سے شکایت نہ رقیبوں سے گلہ میرے اپنوں نے ...

    مزید پڑھیے

    کر دیا اس نے مجھے رسوا بہت

    کر دیا اس نے مجھے رسوا بہت اور پھر کچھ سوچ کر رویا بہت شہر میں آ کر وہ بونا ہو گیا گاؤں میں اپنے جو تھا اونچا بہت اس میں صحبت کا اثر آیا نہیں سانپ صندل سے مگر لپٹا بہت خون میں تر ہے مگر گنبد پہ ہے گو کبوتر پر ہوا حملہ بہت آج پھر ہے چاک پر کچا گھڑا آج پھر منہ زور ہے دریا بہت ملک ...

    مزید پڑھیے

    وہ دل میں روز نیا درد لے کے آتا ہے

    وہ دل میں روز نیا درد لے کے آتا ہے پہ تتلیوں کے تعاقب میں بھول جاتا ہے جو منہ چھپا کے دریچے سے بھاگ جاتا ہے دل و جگر کا ہر اک زخم مسکراتا ہے فرشتے اس کی کمائی پہ ناز کرتے ہیں وہ فاقہ مست پسینے میں جب نہاتا ہے وہ جس کی زد سے لرزتے تھے قیصر و کسریٰ نہ جانے کیسے پیادوں سے مات کھاتا ...

    مزید پڑھیے

    شوخ چنچل ہوا کتنی گستاخ تھی اس کی زلفیں جو چہرہ پہ بکھرا گئی

    شوخ چنچل ہوا کتنی گستاخ تھی اس کی زلفیں جو چہرہ پہ بکھرا گئی پھیل جائے دھواں جیسے لوبان کا یا کہ کالی گھٹا چاند پر چھا گئی شاخ گل جھوم کر پھر لچکنے لگی سبز پتے بجانے لگے تالیاں اس کی مخمور آنکھیں اٹھیں جس طرف جام پر جام ہر سمت چھلکا گئی اس کی نظریں جو میری نظر سے ملیں پھر نظر ہی ...

    مزید پڑھیے