وہ دل میں روز نیا درد لے کے آتا ہے
وہ دل میں روز نیا درد لے کے آتا ہے
پہ تتلیوں کے تعاقب میں بھول جاتا ہے
جو منہ چھپا کے دریچے سے بھاگ جاتا ہے
دل و جگر کا ہر اک زخم مسکراتا ہے
فرشتے اس کی کمائی پہ ناز کرتے ہیں
وہ فاقہ مست پسینے میں جب نہاتا ہے
وہ جس کی زد سے لرزتے تھے قیصر و کسریٰ
نہ جانے کیسے پیادوں سے مات کھاتا ہے
وہ ایک زخم جو سوغات ہے محبت کی
جگر پہ داغ ہے جگنو سا جگمگاتا ہے
اسی کی آنکھ میں ملتا ہے لطف جینے کا
اسی کی آنکھ میں تیراک ڈوب جاتا ہے
کبھی کا توڑ دیا اس نے آئنہ شاکرؔ
پھر آج کرچیاں پلکوں سے کیوں اٹھاتا ہے