جس کی دنیا میں سبھی کچھ ہے سوائے کانٹے

جس کی دنیا میں سبھی کچھ ہے سوائے کانٹے
پھول کے ساتھ وہ جوڑے میں لگائے کانٹے


زندگی میں مجھے ہر دور میں بھائے کانٹے
جب بھی آئے مرے دامن میں تو آئے کانٹے


عیش و عشرت میں بھی ذہنوں میں بسائے کانٹے
یوں سمجھ لو کہ جہنم سے بچائے کانٹے


مجھ کو دشمن سے شکایت نہ رقیبوں سے گلہ
میرے اپنوں نے مری رہ میں بچھائے کانٹے


میری اک عرض پہ غصہ سے دکھائی آنکھیں
میرے محبوب نے بھی مجھ کو دکھائے کانٹے


کوئی تو ہو کہ جو دشمن کو بٹھائے سر پر
یعنی میری طرح پلکوں سے اٹھائے کانٹے


آ گئی جن میں قلندر کی صفت اے شاکرؔ
پھینک کر تاج جبینوں پہ سجائے کانٹے