شوخ چنچل ہوا کتنی گستاخ تھی اس کی زلفیں جو چہرہ پہ بکھرا گئی
شوخ چنچل ہوا کتنی گستاخ تھی اس کی زلفیں جو چہرہ پہ بکھرا گئی
پھیل جائے دھواں جیسے لوبان کا یا کہ کالی گھٹا چاند پر چھا گئی
شاخ گل جھوم کر پھر لچکنے لگی سبز پتے بجانے لگے تالیاں
اس کی مخمور آنکھیں اٹھیں جس طرف جام پر جام ہر سمت چھلکا گئی
اس کی نظریں جو میری نظر سے ملیں پھر نظر ہی نظر میں ہوا فیصلہ
اک نظر تھی کہ دونوں کو للچا گئی پھر ہوا یہ کہ وہ خود ہی شرما گئی
غنچۂ دل پہ تتلی تھرکنے لگی پھوٹ نکلی کرن گل مہکنے لگے
جان و دل سے وہ مجھ پر فدا جب ہوا میری دنیا میں جیسے بہار آ گئی
چاندنی پر مری چاندنی رات میں میرے دلبر کے پر شوخ انداز پر
برق لہرا گئی نور بکھرا گئی رنگ برسا گئی ذہن مہکا گئی
آفت و قہر فتنے مصیبت الم درد تکلیف کرب و بلا رنج و غم
اک توجہ ہٹائی جو اس نے ذرا دیکھ لو خود پہ کیسی گھڑی آ گئی
اس نے برگد کے پتے پہ اتنا لکھا کیا یہاں پر تمہیں رزق ملتا نہیں
بس اسی ایک پتے سے شاکرؔ مجھے اپنے آنگن کی ہریالی یاد آ گئی