Mirza Athar Zia

مرزا اطہر ضیا

مرزا اطہر ضیا کی غزل

    کوئی دریا بھی رواں ہے مجھ میں

    کوئی دریا بھی رواں ہے مجھ میں صرف صحرا ہی کہاں ہے مجھ میں کیا پتا جانے کہاں آگ لگی ہر طرف صرف دھواں ہے مجھ میں جشن ہوتا ہے وہاں رات ڈھلے وہ جو اک خالی مکاں ہے مجھ میں اجنبی ہو گئیں گلیاں میری جانے اب کون کہاں ہے مجھ میں ایک دن تھا جو کہیں ڈوب گیا ایک شب ہے کہ جواں ہے مجھ میں تم ...

    مزید پڑھیے

    میں اپنے جسم کی دیوار میں چنوں خود کو

    میں اپنے جسم کی دیوار میں چنوں خود کو پھر اپنے آپ سے باتیں کروں سنوں خود کو تمام شہر میں بکھرا پڑا ہے میرا وجود کوئی بتائے بھلا کس طرح چنوں خود کو نکل پڑا ہوں میں ہم زاد ڈھونڈنے اپنا لگا کے بیٹھا ہوا ہوں عجب جنوں خود کو مرے وجود کے سب تانے بانے الجھے ہیں کدھر کدھر سے میں ...

    مزید پڑھیے

    ہم تو ہیں حسرت دیدار کے مارے ہوئے لوگ

    ہم تو ہیں حسرت دیدار کے مارے ہوئے لوگ یعنی اک نرگس بیمار کے مارے ہوئے لوگ جل گئے دھوپ میں جو ان کا شمار ایک طرف کم نہیں سایۂ دیوار کے مارے ہوئے لوگ تو نے اے وقت پلٹ کر بھی کبھی دیکھا ہے کیسے ہیں سب تری رفتار کے مارے ہوئے لوگ دیکھتے رہتے ہیں خود اپنا تماشا دن رات ہم ہیں خود اپنے ...

    مزید پڑھیے

    کوئی بگولہ رقصاں میرے اندر ہے

    کوئی بگولہ رقصاں میرے اندر ہے دل صحرا میں جشن کے جیسا منظر ہے میں نے کیسے کیسے موتی ڈھونڈے ہیں لیکن تیرے آگے سب کچھ پتھر ہے بالکنی پر آؤ میری پلکوں کی دیکھو کتنا گہرا نیلا سمندر ہے خاموشی سے مار نہ دے اک دن مجھ کو شور سا اک جو میری ذات کے اندر ہے چاہے جو بھی کھڑکی میں کھولوں ...

    مزید پڑھیے
صفحہ 2 سے 2