ہر گھڑی برسے ہے بادل مجھ میں
ہر گھڑی برسے ہے بادل مجھ میں کون ہے پیاس سے پاگل مجھ میں تم نے رو دھو کے تسلی کر لی پھیلتا ہے ابھی کاجل مجھ میں میں ادھورا سا ہوں اس کے اندر اور وہ شخص مکمل مجھ میں چپ کی دیواروں سے سر پھوڑے ہے جو اک آواز ہے پاگل مجھ میں میں تجھے سہل بہت لگتا ہوں تو کبھی چار قدم چل مجھ میں مژدہ ...