Mirza Athar Zia

مرزا اطہر ضیا

مرزا اطہر ضیا کی غزل

    ہر گھڑی برسے ہے بادل مجھ میں

    ہر گھڑی برسے ہے بادل مجھ میں کون ہے پیاس سے پاگل مجھ میں تم نے رو دھو کے تسلی کر لی پھیلتا ہے ابھی کاجل مجھ میں میں ادھورا سا ہوں اس کے اندر اور وہ شخص مکمل مجھ میں چپ کی دیواروں سے سر پھوڑے ہے جو اک آواز ہے پاگل مجھ میں میں تجھے سہل بہت لگتا ہوں تو کبھی چار قدم چل مجھ میں مژدہ ...

    مزید پڑھیے

    ڈھونڈھتا ہے کوئی رستا مرے آئینے میں

    ڈھونڈھتا ہے کوئی رستا مرے آئینے میں قید جو شخص ہے مجھ سا مرے آئینے میں کھینچ لے تجھ کو نہ آئینے کے اندر کا طلسم غور سے دیکھ نہ اتنا مرے آئینے میں اس کے جیسا ہوں میں آئینے کے باہر کوئی رہ رہا ہے وہ جو مجھ سا مرے آئینے میں میں ہی آئینۂ دنیا میں چلا آیا ہوں یا چلی آئی ہے دنیا مرے ...

    مزید پڑھیے

    خود اپنے قتل کا الزام ڈھو رہا ہوں ابھی

    خود اپنے قتل کا الزام ڈھو رہا ہوں ابھی میں اپنی لاش پہ سر رکھ کے رو رہا ہوں ابھی اسی پہ فصل کھڑی ہوگی اک صداؤں کی میں جس زمین پہ خاموشی بو رہا ہوں ابھی سب اپنی اپنی فصیلیں ہٹا لیں رستے سے میں اپنی راہ کی دیوار ہو رہا ہوں ابھی کہو کہ دشت ابھی تھوڑا انتظار کرے میں اپنے پاؤں ندی ...

    مزید پڑھیے

    راس آتی ہے بہت آب و ہوا صحرا کی

    راس آتی ہے بہت آب و ہوا صحرا کی جانے دے دی ہے تجھے کس نے دعا صحرا کی تجھ کو ملنے سے رہا شہر میں وحشت کا علاج تجھ کو شاید کہ شفا بخشے ہوا صحرا کی ہم تو لیتے ہیں مزا گھر میں ہی ویرانی کا ناز برداری کرے کون بھلا صحرا کی اک سمندر ہے مری ذات کے پیمانے میں ڈال رکھی ہے مگر اس پہ ردا صحرا ...

    مزید پڑھیے

    روک رکھا تھا جو ان آنکھوں میں کھارا پانی

    روک رکھا تھا جو ان آنکھوں میں کھارا پانی میری دیواروں میں در آیا وہ سارا پانی ایک دریا کو دکھائی تھی کبھی پیاس اپنی پھر نہیں مانگا کبھی میں نے دوبارا پانی اپنی آنکھوں سے نچوڑوں گا کسی روز اسے کرتا رہتا ہے بہت مجھ سے کنارا پانی اب کے بارش پہ کوئی حق نہیں انسانوں کا اب کے چڑیوں ...

    مزید پڑھیے

    تو بھی ہو جائے گا پانی پانی

    تو بھی ہو جائے گا پانی پانی پیاس ہے میری پرانی پانی رہ کے صحرا میں ہرا ہو گیا میں مجھ میں بہنے لگا دھانی پانی کہتی جاتی ہے کہانی کوئی تیری ہر آن روانی پانی تو تو رہتا ہے مری آنکھوں میں تجھ سے کیا بات چھپانی پانی پیاس روکے ہوئے میں بیٹھا تھا اور پھر چیخ اٹھا پانی پانی میں نے ...

    مزید پڑھیے

    یہ کیسی آگ مجھ میں جل رہی ہے

    یہ کیسی آگ مجھ میں جل رہی ہے یہ کیسی برف مجھ میں گل رہی ہے کوئی تسبیح مجھ میں پڑھ رہا ہے کوئی قندیل مجھ میں جل رہی ہے مسافر جا چکا لمبے سفر پر ابھی تک دھوپ آنکھیں مل رہی ہے سبھی باہوں کو پھیلائے کھڑے ہیں قیامت ہے کہ ہر پل ٹل رہی ہے اضافی ہو چکا ہے متن سارا کہانی حاشیے سے چل رہی ...

    مزید پڑھیے

    کیا خبر جو نظر آتا ہے وہ منظر ہی نہ ہو

    کیا خبر جو نظر آتا ہے وہ منظر ہی نہ ہو یہ سمندر کہیں سچ مچ میں سمندر ہی نہ ہو جس کی امید پہ سر پھوڑ رہی ہے دنیا کہیں اس آہنی دیوار میں وہ در ہی نہ ہو جان کر پھول جسے دل سے لگائے ہوئے ہیں غور سے دیکھ لیں چھو کر اسے پتھر ہی نہ ہو در و دیوار سے یہ کیسے نظر آتے ہیں جس کو ویرانہ سمجھ ...

    مزید پڑھیے

    تمام گلیوں میں ماتم بپا تھا جنگل کا

    تمام گلیوں میں ماتم بپا تھا جنگل کا یہاں ضرور کوئی سلسلہ تھا جنگل کا لکھی تھیں وحشتیں صحرا کی میری آنکھوں میں کتاب دل میں ورق کھل رہا تھا جنگل کا ہمارے شہروں میں اب روز ہوتا رہتا ہے وہ واقعہ جو کبھی واقعہ تھا جنگل کا وہ اس طرف کی پہاڑی پہ میٹھے جھرنے تھے پہ درمیان میں رستہ ...

    مزید پڑھیے

    حریم دل میں ٹھہر یا سرائے جان میں رک

    حریم دل میں ٹھہر یا سرائے جان میں رک یہ سب مکان ہیں تیرے کسی مکان میں رک ابھی میں جوڑ رہا ہوں یقین کا پیالہ تو ایسا کر کہ ابھی کاسۂ گمان میں رک میں تجھ کو باندھ لوں اپنی غزل کے شعروں میں خیال یار ذرا دیر میرے دھیان میں رک بہت سی قوس قزح بن رہی ہیں آنکھوں میں اے ہفت رنگ پری میری ...

    مزید پڑھیے
صفحہ 1 سے 2